براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 38

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸ نصرة الحق مباحثات مذہبیہ میں بڑی سرگرمی دکھلاتے ہیں اور سخت گوئی اور بد زبانی اور منہ کی تیزی میں ایک طور سے پادری صاحبوں سے بھی کچھ آگے قدم ہے لیکن خدائے تعالیٰ کی معرفت اُن کو ہر گز نصیب نہیں کیونکہ اول تو خدا تعالیٰ عقلی طور پر اپنی خالقیت سے شناخت کیا جاتا ہے مگر اُن کے نزدیک خدائے تعالی خالق نہیں ہے۔ پس مصنوعات کے لحاظ سے اُن کے پاس اُس کے وجود پر کوئی دلیل نہیں اور دوسرا طریق شناخت خدائے تعالیٰ کا آسمانی نشان ہیں مگر وہ اُن سے منکر اور قطعا اس راہ سے بے نصیب ہیں اور صرف پر میشر کے نام کے لفظ ہاتھ میں ہیں اور اُس کی ہستی سے بے خبر ۔ افسوس یہ لوگ نہیں جانتے کہ انسان ہزار اپنی زبان سے بک بک کرے اس سے کیا فائدہ جب تک اس کو اپنے خدا کی ایسی شناخت حاصل نہ ہو جائے جس سے اُس کی سفلی زندگی پر موت آجائے اور اُس کا دل خدائے تعالیٰ کی محبت سے بھر جائے اور گناہ سے اس کو نفرت ہو جائے۔ یوں تو ہر ایک شخص دعوی کر سکتا ہے کہ میں ایسا ہی ہوں لیکن بچے پرستاروں کے یہ نشان ہیں کہ خدائے تعالی کی سچی محبت کی وجہ سے اُن میں ایک برکت پیدا ہو جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ کی قولی اور فعلی تجلی اُن کے شامل حال ہو جاتی ہے۔ یعنی وہ خدائے تعالی کے ہم کلام ہو جاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کے معجزانہ افعال اُن میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ بہت سے الہامات ایسے اُن پر ظاہر کرتا ہے جن میں آئندہ نصرتوں کے وعدے ہوتے ہیں اور پھر دوسرے وقت میں وہ نصر تیں ظاہر ہو جاتی ہیں اور اس طرح پر وہ اپنے خدا کو پہچان لیتے ہیں اور خاص نشانوں کے ساتھ غیر سے ممتاز ہو جاتے ہیں۔ اُن کو ایک قوت جذب دی جاتی ہے جس سے (۲۹) لوگ اُن کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ اور عشق الہی اُن کے منہ پر برستا ہے۔ اور اگر یہ ما بہ الامتیاز نہ ہو تو پھر ہر ایک بدمعاش جو پوشیدہ طور پر زانی فاسق فاجر شراب خور اور پلید طبع ہو ٹیک کہلا سکتا ہے پھر حقیقی نیک اور اس مصنوعی نیک میں فرق کیا ہوگا۔ پس فرق کرنے کیلئے ہمیشہ سے