براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 39

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۹ نُصرة الحق یہ عادتِ الہی ہے کہ راستبازوں کی معجزانہ زندگی ہوتی ہے۔ اور خدا کی نصرت اُن کے شامل حال رہتی ہے اور ایسے طور سے شامل حال ہوتی ہے کہ وہ سراسر معجزہ ہوتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک راستباز کی معجزانہ زندگی زمین اور آسمان سے زیادہ تر خدائے تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرتی ہے کیونکہ کسی نے نہیں دیکھا کہ زمین اور آسمان کو خدا نے اپنے ہاتھ سے بنایا۔ صرف اس عالم کی پر حکمت صنعت کو دیکھ کر اور اس کی ترکیب کو ابلغ اور محکم پا کر مقل سلیم اس بات کی ضرورت سمجھتی ہے کہ ان بے مثل مصنوعات کا کوئی صانع ہونا چاہیے مگر عقل اپنی معرفت میں اس حد تک نہیں پہنچتی کہ فی الواقع وہ صانع موجود بھی ہے کیونکہ اُس نے اس صانع کو بناتے نہیں دیکھا اور عقلی خداشناسی کا تمام مدار صرف ضرورت صانع پر رکھا گیا ہے نہ یہ کہ اس کا ہونا مشاہدہ کیا گیا لیکن راستباز کی معجزانہ زندگی واقعی طور پر اور مشاہدہ کے پیرایہ میں خدائے تعالیٰ کی ہستی کو دکھلاتی ہے کیونکہ راستباز اپنی سب ابتدائی حالت میں ایک ذرہ بے مقدار کی طرح ہوتا ہے یا ایک رائی کے بیچ کی طرح جس کو ایک کسان نے بویا اور نہایت ذلیل حالت میں پڑا ہوا ہوتا ہے۔ تب وحی کے ذریعہ سے خداد نیا کو اطلاع دیتا ہے کہ دیکھو میں اس کو بناؤں گا۔ میں ستاروں کی طرح اُس میں چمک ڈالوں گا اور آسمان کی طرح اُس کو بلند کروں گا۔ اور ایک ذرہ کو ایک پہاڑ کی طرح کر دکھاؤں گا۔ پھر بعد اس کے باوجود اس بات کے کہ دنیا کے تمام شریر چاہتے ہیں کہ وہ ارادہ الہی معرض التواء میں رہے۔ اور ناخنوں تک زور لگاتے ہیں کہ وہ امر ہونے نہ پائے مگر وہ رُک نہیں سکتا جب تک پورا نہ ہو اور خدا کا ہاتھ سب روکوں کو دور کر کے اس کو پورا کرتا ہے وہ ایک گمنام کو اپنی پیشگوئی کے مطابق ایک عظیم الشان جماعت بنا دیتا ہے۔ وہ تمام مستعد لوگوں کو اس کی طرف کھینچتا ہے۔ وہ اُس گمنام کو ایسی شہرت دیتا ہے (۳۰) کہ کبھی اُس کے باپ دادوں کو نصیب نہ ہوئی۔ وہ ہر میدان میں اس کا ہاتھ پکڑتا ہے اور ہر ایک جنگ میں اس کو فتح دیتا ہے اور ایک دنیا کو اُس کا غلام کرتا ہے اور لاکھوں انسانوں کو اس کی طرف