براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 36
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۶ نصرة الحق تو اس صلیبی نسخہ کا غلط ہونا خود صلیب پرستوں کے حالات سے واضح ہو سکتا ہے کہ وہ کہاں تک دنیا پرستی اور ہوا و ہوس کو چھوڑ کر خدائے تعالیٰ کی محبت میں محو ہو گئے ہیں۔ جو شخص یورپ کے ممالک کی سیر کرے وہ خود دیکھ لے گا کہ دنیا کی عیاشی اور بے قیدی اور شراب خواری اور نفس پرستی اور دوسرے فسق و فجور کس درجہ تک ان لوگوں میں پائے جاتے ہیں جو بڑے حامی دین کہلاتے ہیں اور جو اس ملک کے جاہل لوگوں کی طرح نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں۔ سب سے زیادہ خونِ مسیح پر زور دینے والے پادری صاحبان ہیں۔سوا کثر اُن کے شراب خواری میں جو اُمّ الخبائث ہے مبتلا ہیں بلکہ بعض کے حالات جو اخباروں میں شائع ہوتے رہتے ہیں ایسے قابل شرم ہیں جو نا گفتہ بہ ۔ چنانچہ آج ہی ہم نے ایک اخبار میں پڑھا ہے کہ ولایت سے ایک پادری صاحب پکڑا آ رہا ہے جس نے لڑکیوں کے ساتھ بدفعلی کی ۔ اُس پادری صاحب کا نام ڈاکٹر ساندی لینڈ ز ہے۔ پادری صاحب مذکور بٹھنڈارہ ناگپور میں مشنری یتیم خانہ کے پرنسپل تھے۔ اگست کی بات ہے ۲۴ / اگست کی رات کو اُن کے کمرے میں ایک لڑکی پائی گئی۔ جواب نہ دے سکے۔ مستعفی ہو کر چلے جانے پر معلوم ہوا کہ سترہ لڑکیوں سے بدفعلیاں کیں۔ اظہار پولیس میں اور بھی گل کھلا ۔ معلوم ہوا کہ ناجائز عمل جراحی بھی کیا یعنی حمل گرایا۔ وارنٹ نکلا ولایت میں گرفتار ہوئے۔ ہندوستان پہنچنے پر مقدمہ ہائی کورٹ بمبئی کی اجلاس ششن میں ہوگا۔ دیکھو پایونیر واخبار عام ۸/ فروری ۱۹۰۵ء پہلا کالم ۔ اور ۹ فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۶ دوسرا کالم ۔ اب ظاہر ہے کہ جبکہ یہ لوگ کہ جو بڑے مقدس پادری کہلاتے ہیں اور خونِ مسیح سے فیض اٹھانے میں اول درجہ پر ہیں اُن کا یہ حال ہے تو دوسرے بیچارے اس نسخہ سے کیا فائدہ اُٹھائیں گے۔ سویا در ہے کہ یہ طریق حقیقی پاکیزگی حاصل کرنے کا ہر گز نہیں ہے۔ اور وقت آتا جاتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ اس غلط طریق پر خود متنبہ ہو جائیں گے۔ طریق وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ ہر ایک شخص جو خدائے تعالیٰ کی طرف آیا ہے اسی دروازہ سے داخل ہوا ہے۔