براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 31

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۱ نصرة الحق حقیقی خدادانی تمام اسی میں منحصر ہے کہ اس زندہ خدا تک رسائی ہو جائے کہ جو اپنے مقرب انسانوں سے نہایت صفائی سے ہم کلام ہوتا ہے اور اپنی پر شوکت اور لذیذ کلام سے اُن کو تسلی اور سکینت بخشتا ہے اور جس طرح ایک انسان دوسرے انسان سے بولتا ہے ایسا ہی یقینی طور پر جو بکلی شک وشبہ سے پاک ہے اُن سے باتیں کرتا ہے اُن کی بات سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے اور اُن کی دعاؤں کو سن کر دُعا کے قبول کرنے سے اُن کو اطلاع بخشتا ہے اور ایک طرف لذیذ اور پر شوکت قول سے اور دوسری طرف معجزانہ فعل سے اور اپنے قومی اور زبر دست نشانوں سے اُن پر ثابت کر دیتا ہے کہ میں ہی خدا ہوں ۔ وہ اول پیشگوئی کے طور پر ﴿۲۲﴾ اُن سے اپنی حمایت اور نصرت اور خاص طور کی دستگیری کے وعدے کرتا ہے اور پھر دوسری طرف اپنے وعدوں کی عظمت بڑھانے کیلئے ایک دنیا کو ان کے مخالف کر دیتا ہے۔ اور وہ لوگ اپنی تمام طاقت اور تمام مکر و فریب اور ہر ایک قسم کے منصوبوں سے کوشش کرتے ہیں کہ خدا کے اُن وعدوں کو ٹال دیں جو اُس کے ان مقبول بندوں کی حمایت اور نصرت اور غلبہ کے بارے میں ہیں اور خدا ان تمام کوششوں کو برباد کرتا ہے۔ وہ شرارت کی تخم ریزی کرتے ہیں اور خدا اس کی جڑ باہر پھینکتا ہے۔ وہ آگ لگاتے ہیں اور خدا اُس کو بجھا دیتا ہے۔ وہ ناخنوں تک زور لگاتے ہیں آخر خدا اُن کے منصوبوں کو اُنہی پر الٹا کر مارتا ہے خدا کے مقبول اور راستباز نہایت سیدھے اور سادہ طبع اور خدا تعالیٰ کے سامنے اُن بچوں کی طرح ہوتے ہیں جو ماں کی گود میں ہوں اور دنیا اُن سے دشمنی کرتی ہے کیونکہ وہ دنیا میں سے نہیں ہوتے اور طرح طرح کے مکر اور فریب اُن کی بیخ کنی کیلئے کئے جاتے ہیں۔ قومیں اُن کے ایذا دینے کیلئے متفق ہو جاتی ہیں اور تمام نا اہل لوگ ایک ہی کمان سے اُن کی طرف تیر چلاتے ہیں۔ اور طرح طرح کے افترا اور تہمتیں لگائی جاتی ہیں تا کسی طرح وہ ہلاک ہو جائیں اور اُن کا نشان نہ رہے مگر آخر خدائے تعالیٰ اپنی باتوں کو پوری کر کے دکھلا دیتا ہے۔ اسی طرح اُن کی زندگی میں یہ معاملہ ان سے