براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 27

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۷ نصرة الحق انسان میں نیچےگرنے کا بھی مادہ ہے اور اوپر اٹھائے جانے کا بھی۔ اور کسی نے اس بارے میں سچ کہا ہے۔ (۱۸) حضرت انساں که حد مشترک را جامع است می تواند شد مسیحا می تواند خرشدن لیکن اس جگہ مشکل یہ ہے کہ نیچے جانا انسان کے لئے سہل امر ہے گویا ایک طبعی امر ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ایک پتھر اوپر کو بہت مشکل سے جاتا ہے اور کسی دوسرے کے زور کا محتاج ہے لیکن نیچے کی طرف خود بخود گر جاتا ہے اور کسی کے زور کا محتاج نہیں۔ پس انسان او پر جانے کے لئے ایک زور آور ہاتھ کا محتاج ہے۔ اسی حاجت نے سلسلہ انبیاء اور کلام الہی کی ضرورت ثابت کی ہے۔ اگر چہ دنیا کے لوگ سچے مذہب کے پر کھنے کے معاملہ میں ہزار ہا پیچ در پیچ مباحثات میں پڑ گئے ہیں اور پھر بھی کسی منزل مقصود تک نہیں پہنچے لیکن سچ بات یہ ہے کہ جو مذ ہب انسانی نا بینائی کے دُور کرنے اور آسمانی برکات کے عطا کرنے کیلئے اس حد تک کامیاب ہو سکے جو اس کے پیرو کی عملی زندگی میں خدا کی ہستی کا اقرار اور نوع انسان کی ہمدردی کا ثبوت نمایاں ہو وہی مذہب سچا ہے اور وہی ہے جو اپنے بچے پابند کو اس منزل مقصود تک پہنچا سکتا ہے جس کی اُس کی روح کو پیاس لگادی گئی ہے۔ اکثر لوگ صرف ایسے فرضی خدا پر ایمان لاتے ہیں جس کی قدرتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں اور جس کی سکتی اور طاقت صرف قصوں اور کہانیوں کے پیرا یہ میں بیان کی جاتی ہے۔ پس یہی سبب ہوتا ہے کہ ایسا فرضی خدا اُن کو گناہ سے روک نہیں سکتا بلکہ ایسے مذہب کی پیروی میں جیسے جیسے اُن کا تعصب بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے فسق و فجور پر شوخی اور دلیری زیادہ پیدا ہوتی جاتی ہے اور نفسانی جذبات ایسی تیزی میں آتے ہیں کہ جیسے ایک دریا کا بندٹوٹ کر ارد گرد پانی اُس کا پھیل جاتا ہے اور کئی گھروں اور کھیتوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ وہ زندہ خدا جو قادرانہ نشانوں کے شعاع اپنے ساتھ رکھتا ہے اور اپنی ہستی کو تازہ بتازہ معجزات اور طاقتوں سے ثابت کرتا رہتا ہے وہی ہے جس کا پانا اور دریافت کرنا گناہ سے روکتا ہے اور کچی سکینت اور شانتی اور تسلی بخشتا ہے اور استقامت اور دلی بہادری کو عطا فرماتا ہے۔ وہ آگ بن کر