براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 26
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶ نصرة الحق (۱۷) دیکھ لیتا ہے کہ فی الواقع وہ صانع موجود ہے اور اس پاک کلام کی روشنی حاصل کرنے والا محض خشک معقولیوں کی طرح یہ گمان نہیں رکھتا کہ خدا واحد لاشریک ہے بلکہ صد ہا چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ جو اُس کا ہاتھ پکڑ کر ظلمت سے نکالتے ہیں واقعی طور پر مشاہدہ کر لیتا ہے کہ در حقیقت ذات اور صفات میں خدا کا کوئی بھی شریک نہیں اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ عملی طور پر دنیا کو دکھا دیتا ہے کہ وہ ایسا ہی خدا کو سمجھتا ہے اور وحدت الہی کی عظمت ایسی اس کے دل میں سما جاتی ہے کہ وہ الہی ارادہ کے آگے تمام دنیا کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بلکہ مطلق لائے اور سراسر کا لعدم سمجھتا ہے۔ انسانی فطرت ایک ایسے درخت کی طرح واقع ہے جس کے ایک حصہ کی شاخیں نجاست اور پیشاب کے گڑھے میں غرق ہیں اور دوسرے حصے کی شاخیں ایک ایسے حوض میں پڑتی ہیں جو کیوڑہ اور گلاب اور دوسری لطیف خوشبوؤں سے پُر ہے اور ہر ایک حصے کی طرف سے جب کوئی ہوا چلتی ہے تو بد بو یا خوشبو کو جیسی کہ صورت ہو پھیلا دیتی ہے۔ اسی طرح نفسانی جذبات کی ہوا بد بو ظاہر کرتی ہے اور رحمانی نفحات کی ہوا پوشیدہ خوشبو کو پیرایۂ ظهور و بروز پہناتی ہے۔ پس اگر رحمانی ہوا کے چلنے میں جو آسمان سے اترتی ہے روک ہو جائے تو انسان نفسانی جذبات کی تند و تیز ہواؤں کے ہر طرف سے طمانچے کھا کر اور اُن کی بد بوؤں کے نیچے دب کر ایسا خدائے تعالیٰ سے منہ پھیر لیتا ہے کہ شیطان مجسم بن جاتا ہے اور اسفل السافلین میں گرایا جاتا ہے اور کوئی نیکی اُس کے اندر نہیں رہتی اور کفر اور معصیت اور فسق و فجور اور تمام رزائل کے زہروں سے آخر ہلاک ہو جاتا ہے اور زندگی اُس کی جہنمی ہوتی ہے اور آخر مر نے کے بعد جہنم میں گرتا ہے اور اگر خدائے تعالیٰ کا فضل دستگیر ہو اور نفحات الہیہ اُس کے صاف اور معطر کرنے کے لئے آسمان سے چلیں اور اُس کی روح کو اپنی خاص تربیت سے دمبدم نورانیت اور تازگی اور پاک طاقت بخشیں تو وہ طاقت بالا سے قوت پا کر اس قدر او پر کی طرف کھینچا جاتا ہے کہ فرشتوں کے مقام سے بھی اوپر گذر جاتا ہے۔اس سے ثابت ہے کہ