براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 478
ازالہ اوہام (تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ازالہ اوہام میں حضور نے تحریر فرمایا کہ زلزلہ کی پیشگوئی قابل وقعت چیز نہیں بلکہ مہمل اور ناقابل التفات ہے اور پھر زلزلوں کی پیشگوئیاں کی ہیں اس سوال کا جواب ۱۵۴ اشاعۃ السنہ مولوی ابوسعید محمدحسین بٹالوی کا رسالہ جس میں انہوں نے براہین احمدیہ پر انتہائی عظیم الشان تعریفی ریویو لکھا ۳۳۵ح انجیل انجیل کا دعویٰ کامل اور جامع تعلیم کا نہیں ۴،۵ قرآن شریف کی اخلاقی تعلیم تمام دنیا کے لئے ہے مگر انجیل کی اخلاقی تعلیم صرف یہود کے لئے ہے ۴۱۶ خنزیرخوری اور تین خدا بنانے کا حکم اب تک انجیلوں میں نہیں پایا جاتا ۵۸ اعمال باب ۵ آیت ۳۰ کا ترجمہ اردو انجیلوں میں بدلا گیا ہے ۳۳۹ انجیل میں موجود حضرت عیسیٰ کی دعا سے ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صلیب پر مرنے سے بچا لیا ۳۴۳ انجیل میں بھی مسیح کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے ۳۵۰ح انجیل میں زلزلوں اور لڑائیوں کے متعلق پیشگوئیوں میں وقت اور زمانہ کی کوئی تعیین نہیں ۲۵۱ انجیل میں موجود بہت سی پیشگوئیاں جو پوری نہیں ہوئیں ۲۶۳ موجودہ اناجیل سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت بھی ثابت نہیں ہوتی ۲۶۴ یوز آسف کی کتاب میں صریح لکھا ہے کہ اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انجیل اتری تھی ۴۰۴ انجیل میں فارقلیط کے آنے کی پیشگوئی ۵ انجیل میں حضرت مسیح کے معجزہ مانگنے پر حضرت مسیح کا یہود کو جواب ۴۳ صلیب کے موقع پر حضرت مسیح کی دعا ۳۴۳ بخاری صحیح صحیح بخاری میں بھی جو بعدکتاب اللہ اصح الکتب کہلاتی ہے توفی کے معنی مارنا ہی لکھے ہیں ۳۷۸ح صحیح بخاری میں صاف لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے معراج کی رات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ روحوں میں دیکھا ۲۸۳ صحیح بخاری او مسلم میں ہے کہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہو گا ۱۰۹، ۱۱۰ بخاری باب الہجرۃ کی حدیث ذھب وھلی سے اجتہادی غلطی کا استنباط ۱۶۸ براہین احمدیہ (پہلے چار حصے) (تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام) امرتسر کے پادری رجب علی کے پریس میں چھپی۔حضور خود اکیلے پروف پڑھتے اور طباعت کے لئے امرتسر تشریف لے جاتے ۸۰ (تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام) پہلے حصوں سے تقریباً تیئس برس مکمل ہونے پر اس کی اشاعت ہوئی ۳ اس التوا میں ایک یہ حکمت تھی کہ تا وہ تمام امور ظاہر ہو جائیں جن کی نسبت براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں پیشگوئیاں ہیں ۸ ممکن نہ تھا کہ بغیرظہور ان امور کے جو حصص سابقہ کے بطور شرح کے تھے پنجم حصہ لکھا جاتا کیونکہ وہی امور تو پنجم حصہ کے لئے نفس مضمون تھے ۴۱۱