براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 479
دوسرا سبب اس التوا کا یہ تھا کہ تا ان لوگوں کے دلی خیالات ظاہر ہو جائیں جو بدگمانی کے مرض میں مبتلا تھے ۹ اس میں دو قسم کے دلائل اسلام کی حقانیت کے لکھے گئے ہیں(تعلیم کا اکمل وجامع ہونا اور زندہ برکات و معجزات) ۷ کتاب کا ایک نام ’’نصرۃ الحق‘‘ اور اس کی وجہ تسمیہ ۸ پچاس سے پانچ پر اکتفاء کی وجہ ۹ بوستان بوستان سے ایک منظوم مثال کہ زبان بعض دفعہ پوشیدہ نادانی پر سب کو مطلع کر دیتی ہے ۱۸۲ پیسہ( اخبار) اس کے ایک پرچہ میں حضور کی زلزلہ کی پیشگوئیوں پر اعتراضات ۱۵۳ زلزلہ پنجاب کی پیشگوئی کا اس اخبار میں شائع ہونا ۱۶۴ اخبار میں مولوی محمدحسین بٹالوی کے بعض اعتراضات ۲۶۴ تاج العروس عربی زبان کی مشہور لغت جس میں توفی کے معنی موت لکھے ہیں ۳۷۷ح تذکرۃ المعادمصنفہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ابدال از شام و عصائب از عراق آمدہ باوے بیعت کنند ۳۵۶ تفسیرثنائی(مرتبہ مولوی ثناء اللہ پانی پتی) تفسیر ثنائی میں آیت ’’ان من اھل الکتاب‘‘ کی تفسیر میں مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کی تصدیق ۴۱۰ تفسیر فتح البیان از نواب صدیق حسن خان رفعناہ مکانا علیا کے متعلق لکھا ہے کہ اس مراد رفع روحانی ہے جو موت کے بعد ہوتا ہے ۲۹۶ح تفسیر کبیر(فخرالدین رازی) صاحب تفسیر کبیر نے لکھا ہے کہ انسان اور الٰہی کلام کے توارد سے قرآن شریف کے اعجاز پرکوئی قدح وارد نہیں ہوتا ۱۶۳ تفسیر الکشاف(علامہ زمخشری) علامہ زمخشری نے متوفیک کے معنے ممیتک حتف انفک لکھے ہیں ۳۷۷ح، ۳۴۷ و ۳۶۲ توریت توریت کامل نہیں ۴ یہودیوں کے ہاتھ میں جو عبرانی توریت ہے وہ بہ نسبت عیسائیوں کے تراجم کے صحیح ہے ۳۵۹ح توریت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیشگوئی ۲۴۸، ۴۰۵، توریت میں بخت نصر اور طیطوس رومی کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس کا زمانہ معین نہیں بتلایا گیا ۲۵۱ توریت میں یہ صاف حکم تھا کہ جو شخص بذریعہ صلیب مارا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے ۷۵ توریت کی رو سے یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والا مقتول ہو جائے تو وہ مفتری ہوتا ہے اور اگر وہ صلیب دیا جائے تو وہ لعنتی ہوتا ہے ۳۴۵ تولیدوت یشوع عبرانی زبان میں علماء یہود کی انیس سو سال قبل کی ایک تصنیف جس میں یہ ذکر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے سنگسار کر کے مار ڈالا گیا اور بعد میں کاٹھ پر لٹکایا گیا ۳۳۸ جیوش انسائیکلوپیڈیا ۳۴۲ح الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح مولوی رشیداحمدگنگوہی کی تصنیف جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب میں لکھی اور حضور نے اس کے شبہات کا جواب دیا ۳۷۱ تا ۴۱۰