براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 473
اسلام کے خاتم الانبیاء کا نام احمد اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۴۱۵ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے ۳۰۰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں ۱۱۰،۲۰۳،۴۰۵،۴۰۷ جب یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہ کیا اور تعصّب اور کینہ سے باز نہ آئے تو خدا نے اُن کے دلوں پر مہریں لگا دیں ۳۱۵ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کا و عدہ مطھرک من الذین کفروا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پورا ہوگیا ۳۴۸ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے وقت باوجود اس کے کہ کفّار عین غار ثور کے سر پر پہنچ گئے تھے پھر اُن کی آنکھوں سے پوشیدہ رہے۔۳۵۰ آپ کی صداقت کی دلیل کہ اُ مّی ہونے کے باوجود قرآن جیسی معارف اور علوم سے پر کتاب لائے ۲۲۹ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی ۶۶ح آپ کا طریق ادب ربوبیت کو ملحوظ رکھ کر فتح کی بشارت ہونے کے باوجود بدر کے میدان میں گریہ وزاری سے دعا کرنا ۲۵۶ جو دنیا میں افضل الرسل اور خاتم الرسل گزرا ہے اس کے منہ سے بھی یہی نکلا ربنااغفرلنا ذنوبنا ۲۷۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی کم مائیگی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں ما عبدناک حق عبادتک ۲۷۱ح آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے معراج کی رات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُن مُردہ رُوحوں میں دیکھا جو اِس جہان سے گذر چکی ہیں ۲۸۳ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو نبیوں کے سردار ہیں۔آپ پر بھی پیرانہ سالی کے علامات ظاہر ہو گئے تھے ۳۹۵ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو بعض صحابہ کا یہ بھی خیال تھا کہ آپ فوت نہیں ہوئے اور پھر دنیا میں واپس آئیں گے ۲۸۴ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ گذرا تھا ۳۷۵ اگر کوئی انسان آسمان کی طرف پرواز کر سکتا ہے تو اس بات کیلئے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم زیادہ لائق تھے ۳۳۲ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری کامیابی کے ساتھ انتقال ہوا ۲۹۲ جس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو وقف کر دیا وہ شہید ہوچکا۔پس اس صورت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اول الشہداء ہیں ۳۹۰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت حسان بن ثابت کے اشعار ۲۸۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد صد ہا جاہل عرب مرتد ہو گئے تھے ۲۸۶ح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک جو لوگ سچّے دل سے ایمان لائے تھے وہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نہ تھے ۳۵۸ یہ بات عقلِ سلیم قبول نہیں کر سکتی کہ ایک مفتری کو ایک ایسی لمبی مہلت دی جائے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانۂ بعثت سے بھی زیادہ ہو ۲۹۳ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سیّد الرسل کو کافروں اور مشرکوں کے منصوبوں سے بچا کر فتح کامل عطا فرمائی ۲۹۸ مسیح موعودکی آمد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ جو حدیث میں تھا پورا ہو گیا ۳۳۳