براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 23

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳ نصرة الحق گر اُس سے رہ گیا تھا کہ وہ خود دکھائے ہاتھ اتنا تو سہل تھا کہ تمہارا بنائے ہاتھ یہ بات کیا ہوئی کہ وہ تم سے الگ رہا کچھ بھی مدد نہ کی نہ سنی کوئی بھی دعا جو مفتری تھا اُس کو تو آزاد کر دیا سب کام اپنی قوم کا برباد کر دیا سب جدوجہد وسعی اکارت چلی گئی کوشش تھی جس قدر وہ بغارت چلی گئی ۱۳ کی کیا ”راستی کی فتح نہیں وعدہ خدا دیکھو تو کھول کر سخن پاک کبریا پھر کیوں یہ بات میری ہی نسبت پلٹ گئی یا خود تمہاری چادر تقوی ہی پھٹ گئی کیا یہ عجب نہیں ہے کہ جب تم ہی یار ہو پھر میرے فائدہ کا ہی سب کاروبار ہو پھر یہ نہیں کہ ہوگئی ہے صرف ایک بات پاتا ہوں ہر قدم میں خدا کے تفضلات دیکھو وہ بھیں کا شخص کرم دیں ہے جس کا نام لڑنے میں جس نے نیند بھی اپنے پہ کی حرام جس کی مدد کے واسطے لوگوں میں جوش تھا جس کا ہر ایک دشمن حق عیب پوش تھا جس کا رفیق ہوگیا ہر ظالم و غوی جس کی مدد کے واسطے آئے تھے مولوی اُن میں سے ایسے تھے کہ جو بڑھ بڑھ کے آتے تھے اپنا بیاں لکھانے میں کرتب دکھاتے تھے ہشیاری مستغیث بھی اپنی دکھاتا تھا سو سو خلاف واقعہ باتیں بناتا تھا پر اپنے بدعمل کی سزا کو وہ پاگیا ساتھ اُس کے یہ کہ نام بھی کا ذب رکھا گیا کذاب نام اس کا دفاتر میں رہ گیا چالاکیوں کا فخر جو رکھتا تھا یہ گیا اے ہوش و عقل والو یہ عبرت کا ہے مقام چالاکیاں تو بیچ میں تقویٰ سے ہو دیں کام جو متقی ہے اُس کا خدا خود نصیر ہے انجام فاسقوں کا عذاب سعیر ہے جڑ ہے ہر ایک خیر و سعادت کی اتقال جس کی یہ جڑ رہی ہے عمل اُس کا سب رہا