براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 24
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۴ نصرة الحق مومن ہی فتح پاتے ہیں انجام کار میں ایسا ہی پاؤگے سخن کردگار میں کوئی بھی مفتری ہمیں دنیا میں اب دکھا جس پر یہ فضل ہو یہ عنایات یہ عطا اس بدعمل کی قتل سزا ہے نہ یہ کہ پیت پس کس طرح خدا کو پسند آگئی یہ ریت کیا تھا یہی معاملہ پاداش افترا کیا مفتری کے بارے میں وعدہ یہی ہوا کیوں ایک مفتری کا وہ ایسا ہے آشنا یا بے خبر ہے عیب سے دھوکے میں آگیا آخر کوئی تو بات ہے جس سے ہوا وہ یار بدکار سے تو کوئی بھی کرتا نہیں ہے پیار تم بدبنا کے پھر بھی گرفتار ہو گئے یہ بھی تو ہیں نشاں جو نمودار ہو گئے تاہم وہ دوسرے بھی نشاں ہیں ہمارے پاس لکھتے ہیں اب خدا کی عنایت سے بے ہر اس جس دل میں رچ گیا ہے محبت سے اُس کا نام وہ خود نشاں ہے نیز نشاں سارے اس کے کام کیا کیا نہ ہم نے نام رکھائے زمانہ سے مردوں سے نیز فرقہ ناداں زنانہ سے اُس کے گمان میں ہم بدو بدحال ہو گئے اُن کی نظر میں کافر و دجال ہو گئے ہم مفتری بھی بن گئے اُن کی نگاہ میں بے دیں ہوئے فساد کیا حق کی راہ میں پر ایسے کفر پر تو فدا ہے ہماری جاں جس سے ملے خدائے جہان و جہانیاں لعنت ہے ایسے دیں یہ کہ اس کفر سے ہے کم موشکر ہے کہ ہو گئے غالب کے یار ہم ہوتا ہے کردگار اسی رہ سے دستگیر کیا جانے قدر اس کا جو قصوں میں ہے اسیر وحی خدا اسی رو فرخ سے پاتے ہیں دلبر کا بانمکین بھی اسی سے دکھاتے ہیں اے مدعی نہیں ہے تیرے ساتھ کردگار یہ کفر تیرے دیں سے ہے بہتر ہزار بار