براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 459 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 459

قرآن شریف کی اخلاقی تعلیم تمام دنیا کے لئے ہے مگر انجیل کی اخلاقی تعلیم صرف یہود کے لئے ہے ۴۱۶ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی ہستی پر زندہ ایمان عطا کرتا ہے ۲۵، ۲۶ قرآن شریف دوسری امتوں کے نیکوں کی بھی تعریف کرتا ہے ۴۱۷ آیات قرآنی میں تقدیم و تاخیر کرنا تحریف ہے ۳۴۷ قضاء وقدر قضاء وقدر درحقیقت ایک ایسی چیز ہے جس کے احاطہ سے باہر نکلنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے ۳ قیامت قیامت (حضرت آدم سے )سات ہزار برس تک آجائے گی ۳۶۱ یہ بھی ممکن ہے کہ سات ہزار پورا ہونے کے بعد دو تین صدیاں بطور کسور کے زیادہ ہو جائیں جو شمار میں نہیں آسکتیں ۳۶۱ قیامت کے دن ایمان لانا یا کوئی عمل کرنا فائدہ نہ دے گا ۴۴ ک،گ کیمرہ اس کے ذریعہ سے بڑے بڑے مشکل امراض کی تشخیص ہوتی ہے اور اہل فراست کے لئے ہدایت پانے کا ذریعہ ہے ۳۶۷ گناہ کوئی طریق ایسا نہیں جو گناہ سے پاک کر سکے بجز اس کامل معرفت کے جو کامل محبت اور کامل خوف پیدا کرتی ہے ۷ انسانی نفس اگرچہ گناہ کی آگ سے سخت مشتعل ہو جائے پھر بھی اس میں ایک ایسی قوت توبہ ہے کہ وہ اس آگ کو بجھا سکتی ہے ۳۴ گناہ سے سچی نفرت مسیح کے صلیب دیئے جانے اور اس کو خدا ماننے نہیں پیدا ہو سکتی ۳۵ انبیاء کے لئے ذنب(گناہ) کے استعمال کا مطلب ۹۰ انبیاء بنی اسرائیل کا اعتراف گناہ ۲۶۹ح م محبت؍ محبت الٰہی محبت بقدر معرفت ہوتی ہے ۱۰۵ح محبت نفرت کو ٹھنڈا کر کے رفع کر دیتی ہے ۴۲۴ انسانی نفس دراصل محبت الٰہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ۳۴ محبت سے مراد یکطرفہ محبت نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کی دونوں محبتیں مراد ہیں ۲۱۸ خدا تعالیٰ سے کمال محبت کی یہی علامت ہے کہ محب میں ظلی طور پر الٰہی صفات پیدا ہوجائیں ۱۲۳ مذہب سچا مذہب ہزارہا آثار و انوار اپنے اندر رکھتا ہے ۶ سچا مذہب صرف عقل کا دریوزہ گر نہیں ہوتا بلکہ وہ مذہب کی ذاتی خاصیت بھی پیش کرتا ہے جو آسمانی نشان ہیں ۴۷ مذہب کی اصلی سچائی خدا تعالیٰ کی ہستی کی شناخت ہے ۶۰ وہ مذہب ہرگز سچا نہیں ہو سکتا جو خدا تعالیٰ کو ان صفات سے متصف نہ قرار دے جن کے ذریعہ اس پر زندہ ایمان پیدا ہوتاہے ۳۲ وہ مذہب کس کام کا مذہب ہے جو زندہ خدا کا پرستار نہیں ۲۸ مذہب صرف زبانی قصہ نہیں بلکہ جس طرح سونا اپنی علامتوں سے شناخت کیا جاتا ہے اسی طرح سچے مذہب کا پابند اپنی روشنی سے ظاہر ہوجاتا ہے ۴۲۱ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو محض ماضی کے قصوں میں بیان کرنے والے مذاہب فسق وفجور پر دلیری پیدا کرتے ہیں ۲۷ مذہب کے نام پر خشک جھگڑے کرنا اور اندرونی بدکاریوں کی اصلاح نہ کرنا مذہب نہیں ۲۸ اصل بدخواہ مذہب اور قوم کے وہ بدکردار لوگ ہوتے ہیں جو سچی پاکیزگی کی کچھ پروا نہیں کرتے اور صرف انسانی جوشوں کا نام مذہب رکھتے ہیں ۲۹