براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 451
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ نوٹس جو حضور نے بدھ مذہب کی کسی کتاب کو پڑھ کر لئے تھے ۴۲۳ تا ۴۲۵ بدھ مذہب کی پستکوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کشمیر میں آنے کا کچھ ذکر ملتا ہے ۴۰۴ برہموسماج برہموسماج والے بھی خداتعالی کو وحدہ لا شریک کہتے ہیں۔۔۔روزجزا سزا کو بھی مانتے ہیں اور کلمہ لاالہ الااللہ کے بھی اقراری ہیں ۳۱۱ بروز صوفیوں کا یہ مقرر شدہ مسئلہ ہے کہ بعض کاملین اس طر ح پر دوبارہ دنیا میں آجاتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور پر تجلی کرتی ہے اور اس وجہ سے وہ دوسرا شخص پہلا شخص ہی ہوجاتا ہے ۲۹۱ حضرت محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ عیسیٰ تو آئے گا مگر بروزی طور پریعنی کوئی اور شخص اس امت کا عیسیٰ کی صفت پر آئے گا ۲۱۹ عیسائیوں میں بعض فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے ۳۴۲ ہندوؤں میں بھی ایسا ہی اصول ہے اور وہ ایسے آدمی کا نام اوتار رکھتے ہیں ۲۹۱ بنی اسرائیل بنی اسرائیل کے پاس مدت تک انبیاء کی تصویریں رہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تصویر تھی ۳۶۶ بنی اسرائیل میں عورتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف حاصل ہوا ہے جیسے حضرت موسیٰ کی ماں اور مریم صدیقہ کو ۳۵۴ بیعت بیعت صرف زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ بیعت کے معنے اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچ دینا ہے ۱۱۴ پ پاکیزگی میں طبعاً اس سے کراہت کرتا ہوں کہ لوگوں کے سامنے اپنی دلی پاکیزگی ظاہر کروں ۱۰۰ سچی پاکیزگی بہت سے دکھ اور مجاہدات کو چاہتی ہے ۳۵ پاک و صاف ہونے کے لئے صرف معرفت کافی نہیں بلکہ بچوں کی طرح دردناک گریہ وزاری بھی ضروری ہے ۳۳ پیشگوئی؍پیشگوئیاں قرآن شریف زبردست پیشگوئیوں کے لحاظ سے لاجواب معجزہ ہے ۵۹ پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے جائز کوشش کرنا سنت ہے ۳۷۰ پیشگوئیوں کی اشاعت کے لئے ملہم مامور نہیں ہوتا ۲۷۹ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں کبھی ظاہری طور پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی استعارہ کے رنگ میں ۲۵۳ میری کسی پیشگوئی پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہو سکتا جو پہلے نبیوں کی پیشگوئیوں پر نہیں ہو چکا ۲۹۶ عفت الدیار محلھا ومقامھا پر اعتراضات اور ان کے جواب ۱۵۳ تا ۲۴۶ دنیا میں کوئی ایسا نبی یا رسول نہیں گزرا جس نے اپنی کسی پیشگوئی میں اجتہادی غلطی نہ کی ہو ۱۶۸ پیش از وقت کسی پیشگوئی کی پوری حقیقت نہیں کھلتی ۲۴۷ وعیدی پیشگوئیاں استغفار سے ٹل سکتی ہیں ۸۰ یونس نبی کی پیشگوئی قطعی ہونے کے باوجود قوم کی تضرع اور دعا سے ٹل گئی ۱۸۰ پیشگوئی متعلق احمدبیگ و محمدی بیگم پر اعتراضات ۱۷۹ تا ۱۸۱، ۳۶۹ پیشگوئی متعلق مرزا احمدبیگ شرطی تھی ۳۶۹