براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 20
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۰ نصرة الحق جو مفتری ہے اُس سے یہ کیوں اتحاد ہے کس کو نظیر ایسی عنایت کی یاد ہے مجھ پر ہراک نے وار کیا اپنے رنگ میں آخر ذلیل ہو گئے انجام جنگ میں ان کینوں میں کسی کو بھی ارماں نہیں رہا سب کی مراد تھی کہ میں دیکھوں رو فنا تھے چاہتے کہ مجھ کو دکھائیں عدم کی راہ یا حاکموں سے پھانسی دلا کر کریں تباہ یا کم سے کم یہ ہو کہ میں زنداں میں جاپڑوں یا یہ کہ ذلتوں سے میں ہو جاؤں سرنگوں یا مخبری سے ان کی کوئی اور ہی بلا آجائے مجھ پہ یا کوئی مقبول ہو دعا پس ایسے ہی ارادوں سے کر کے مقدمات چاہا گیا کہ دن مرا ہو جائے مجھ پہ رات کوشش بھی وہ ہوئی کہ جہاں میں نہ ہو کبھی پھر اتفاق وہ کہ زماں میں نہ ہو کبھی مجھ کو ہلاک کرنے کو سب ایک ہوگئے سمجھا گیا میں ہدیہ وہ سب نیک ہو گئے آخر کو وہ خدا جو کریم و قدیر ہے جو عالم القلوب و علیم و خبیر ہے اترا مری مدد کیلئے کر کے عہد یاد پس رہ گئے وہ سارے سیہ رُوئے و نامراد کچھ ایسا فضل حضرت رب الورکی ہوا سب دشمنوں کے دیکھ کے اوساں ہوئے خطا اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اُسی نے ثریا بنا دیا میں تھا غریب و بیکس و گمنام و بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا پر پھر بھی جن کی آنکھ تعصب سے بند ہے اُن کی نظر میں حال مرا ناپسند ہے