براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 19

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۹ نصرة الحق شاید تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شاید وہ بد نہ ہو جو تمہیں ہے وہ بدنما شاید تمہاری فہم کا ہی کچھ قصور ہو شاید وہ آزمائش رب غفور ہو پھر تم تو بدگمانی سے اپنی ہوئے ہلاک خود سر پہ اپنے لے لیا خشم خدائے پاک گر ایسے تم دلیریوں میں بے حیا ہوئے پھر اتقا کے سوچو کہ معنے ہی کیا ہوئے موسیٰ بھی بدگمانی سے شرمندہ ہو گیا قرآں میں خضر نے جو کیا تھا پڑھو ذرا بندوں میں اپنے بھید خدا کے ہیں صد ہزار تم کو نہ علم ہے نہ حقیقت ہے آشکار پس تم تو ایک بات کے کہنے سے مرگئے یہ کیسی عقل تھی کہ براہ خطر گئے بدبخت تر تمام جہاں سے وہی ہوا جو ایک بات کہہ کے ہی دوزخ میں جا گرا پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے ڈرتے رہو عقوبت رب العباد سے (10) دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سیدھا خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا وہ اک زباں ہے عضو نہانی ہے دوسرا یہ ہے حدیث سیدنا سید الورای پر وہ جو مجھ کو کاذب و مگار کہتے ہیں اور مفتری و کافر و بدکار کہتے ہیں اُن کیلئے تو بس ہے خدا کا یہی نشاں یعنی وہ فضل اُس کے جو مجھ پر ہیں ہر زماں دیکھو خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا گمنام پاکے شہرہ عالم بنا دیا جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی جو اُس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی ایسے بدوں سے اُس کے ہوں ایسے معاملات کیا یہ نہیں کرامت و عادت سے بڑھ کے بات