براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 423
یادداشتیں ۴۲۳ برا مین احمدیہ حصہ پنجم ذیل میں چند اعتراضات اور چند حقائق درج کئے جاتے ہیں جو حضور علیہ السلام کی ۸ یاد داشتوں میں جو مضمون کے متعلق آپ نے لکھی ہوئی تھیں ملے ہیں ۔ ان اعتراضات کو رد کرنے کا اور ان حقائق پر ہمو جب تعلیم قرآن روشنی ڈالنے کا آپ کا ارادہ تھا ایسا ہی بعض امور بدھ کی ایک کتاب سے لئے معلوم ہوتے ہیں جو اُن دنوں آپ کے زیر مطالعہ تھی ۔ جس کے متعلق آپ کچھ لکھنا چاہتے تھے۔ (1) جتنی الہامی کتابیں ہیں ان میں کونسی ایسی نئی بات ہے جو پہلے معلوم نہ تھی۔ (۲) کسی ایسی سائنس کے عقدہ کو نبیوں نے حل کیا جو پہلے لا ینحل تھا۔ (۳) نبیوں نے روح کی کیفیت و ماہیت کچھ نہیں بتلائی اور نہ آئندہ زندگی کا کچھ حال بتلایا نہ خدا کا ہی مفصل حال بیان کر سکے۔ ر میں نیند رکھاہے انبیاءنے بیان کے ار فن طبعی میں نیند کو اسباب طبعیہ میں رکھا ہے۔ لیکن انبیاء نے بیان کیا ہے کہ نیند کے اور اسباب تھے ۔ آمَنَةً نُّعَاسًا (۴) سابقہ مغالطوں کو رفع نہیں کیا۔ اور نہ پیچیدہ مسائل کو سلجھایا۔ بلکہ اور بھی الجھن میں ڈال دیا۔ (۵) بدھ کی تعلیم اخلاقی سب سے اعلیٰ ہے۔ (۶) جس چیز سے انسان پیار کرتا ہے اس سے اگر جدا کیا جائے تو یہی اس کے لئے ایک عذاب ہو جاتا ہے۔ (۷) اور جس چیز سے اگر پیار کرے اگر وہ میسر آجائے تو یہی اس کی راحت کا موجب ہو جاتا ہے۔ وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ ۔ (۸) خواہش کا نابود کرنا ذریعہ نجات ہے۔ (۹) دنیا میں کبھی علم صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی عمل صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی قول صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی فعل صحیح سے نجات ملتی ہے ۔ اور سبا : ۵۵