براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 18

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۸ نصرة الحق اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اُس یار کے لئے رہ عشرت کو چھوڑ دو لعنت کی ہے یہ راہ سو لعنت کو چھوڑ دو اور نہ خیال حضرت عزت کو چھوڑ دو تلخی کی زندگی کو کرو صدق سے قبول تا تم پہ ہو ملائکہ عرش کا نزول اسلام چیز کیا ہے خدا کیلئے فنا ترک رضائے خویش یے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز معمات شوخی و کبر دیو لعیں کا شعار ہے آدم کی نسل وہ ہے جو وہ خاکسار ہے اے کرم خاک چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبر حضرت رپ غیور کو بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں چھوڑ و غرور و کبر که تقومی اسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولی اسی میں ہے (9) تقوی کی جڑ خدا کے لئے خاکساری ہے عفت جو شرط دیں ہے وہ تقوی میں ساری ہے جو لوگ بدگمانی کو شیوہ بناتے ہیں تقویٰ کی راہ سے وہ بہت دُور جاتے ہیں بے احتیاط اُن کی زباں وار کرتی ہے اک دم میں اُس علیم کو بیزار کرتی ہے اک بات کہہ کے اپنے عمل سارے کھوتے ہیں پھر شوخیوں کا بیج ہر اک وقت ہوتے ہیں کچھ ایسے سو گئے ہیں ہمارے یہ ہم وطن اُٹھتے نہیں ہیں ہم نے تو سوسو کئے جتن سب عضوست ہو گئے غفلت ہی چھا گئی قوت تمام نوک زباں میں ہی آگئی یا بد زباں دکھاتے ہیں یا ہیں وہ بدگماں باقی خبر نہیں ہے کہ اسلام ہے کہاں تم دیکھ کر بھی بدکو بچو بدگمان سے ڈرتے رہو عقار خدائے جہان سے