براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 401

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم دروازے کھولے جائیں گے۔ یادر ہے کہ اگر صرف روحیں ہوتیں تو ان کے لئے لھم کی ضمیر نہ آتی۔ پس یہ قرینہ قومیہ اس بات پر ہے کہ بعد موت جو مومنوں کا رفع ہوتا ہے وہ مع جسم ہوتا ہے مگر یہ جسم خاکی نہیں ہے بلکہ مومن کی روح کو ایک اور جسم ملتا ہے جو پاک اور نورانی ہوتا ہے اور اس دکھ اور عیب سے محفوظ ہوتا ہے جو عصری جسم کے لوازم میں سے ہے یعنی وہ ارضی غذاؤں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ اور نہ زمینی پانی کا حاجت مند ہوتا ہے اور وہ تمام لوگ جن کو خدا تعالیٰ کی ہمسائیگی میں جگہ دی جاتی ہے ایسا ہی جسم پاتے ہیں۔ اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی نے بھی وفات کے بعد ایسا ہی جسم پایا تھا اور اسی جسم کے ساتھ وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ بعض نادان اس جگہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جس حالت میں قرآن شریف کی یہ آیت کہ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدَ أَمَّا دُمْتُ فِيهِمُ اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ صاف طور پر بتلارہی ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالی کے حضور میں یہ عذر پیش کریں گے کہ میری وفات کے بعد لوگ بگڑے ہیں نہ میری زندگی میں تو اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب سے بیچ کر کشمیر کی طرف چلے گئے تھے اور کشمیر میں ۸۷ برس عمر بسر کی تھی تو پھر یہ کہنا کہ میری وفات کے بعد لوگ بگڑ گئے صحیح نہیں ہوگا بلکہ یہ کہنا چاہیے تھا کہ میرے کشمیر کے سفر کے بعد بگڑے ہیں کیونکہ وفات تو صلیب کے واقعہ سے ستائی برس بعد ہوئی۔ پس یادر ہے کہ ایسا وسوسہ صرف قلت تدبر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ورنہ کشمیر کا سفر اس فقرہ کی ضد نہیں کیونکہ مادمت فيهم کے یہ معنے ہیں کہ جب تک میں اپنی امت میں تھا جو میرے پر ایمان لائے تھے یہ معنے نہیں کہ جب تک میں اُن کی زمین میں تھا کیونکہ ہم قبول کرتے ہیں کہ حضرت عیسی زمین شام میں سے ہجرت کر کے کشمیر کی طرف چلے گئے تھے مگر ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ حضرت عیسی کی والدہ اور آپ کے حواری پیچھے رہ گئے تھے بلکہ تاریخ کی رو سے ثابت ہے کہ حواری بھی کچھ تو حضرت عیسی کے ساتھ اور کچھ بعد میں آپ کو آملے تھے جیسا کہ دھو ما حواری حضرت عیسی کے ساتھ آیا تھا باقی حواری بعد میں آگئے تھے المآئدة: ۱۱۸