براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 398

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۹۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۲۲ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا کہ حضرت عیسی میں بے پدر ہونے کی خصوصیت نہ رہے تا ان کی خدائی کے لئے کوئی دلیل نہ ٹھہرائی جائے ۔ تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی میں چار فوق العادت خصوصیتیں قبول کر لی ہوں۔ ہاں اگر خدا نے ان خصوصیتوں کے توڑنے کے لئے کچھ نظیریں پیش کی ہیں تو وہ نظیریں پیش کرنی چاہیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ عیسائیوں کے دعوے کا جواب نہیں دے سکا کیونکہ یہ بھی ایسی خصوصیتیں ہیں جو عیسائی پیش کیا کرتے ہیں اور ان خصوصیتوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کی خدائی کی دلیل ٹھہراتے ہیں ۔ پس جب کہ خدا تعالیٰ نے ان چار خصوصیتوں کو آدم کی پیدائش کی طرح کوئی نظیر پیش کر کے نہیں تو ڑا تو اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کے دعوے کو مان لیا ہے۔ اور اگر تو ڑا ہے اور ان چار خصوصیتوں کی کوئی نظیر پیش کی ہے تو قرآن شریف میں سے وہ آیات پیش کرو۔ اور منجملہ ان آیات کے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر صریح دلالت کرتی ہیں یہ آیت قرآن شریف کی ہے۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءِ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ یعنی جو لوگ بغیر اللہ کے پرستش کئے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ ہیں اور وہ سب لوگ مر چکے ہیں زندہ نہیں ہیں۔ اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ پس اس مقام پر غور سے دیکھنا چاہیے کہ یہ آیتیں کس قدر صراحت سے حضرت مسیح اور ان تمام انسانوں کی وفات کو ظاہر کر رہی ہیں جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنے معبود ٹھہراتے تھے ۔ اور ان سے دعائیں مانگتے تھے۔ یاد رکھو کہ یہ خدا کا بیان ہے اور خدا تعالیٰ اس بات سے پاک اور بلند تر ہے کہ خلاف واقعہ باتیں کہے۔ پس جس حالت میں وہ صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ جس قدر انسان مختلف فرقوں میں پوجا کئے جاتے ہیں اور خدا بنائے گئے ہیں وہ سب مر چکے ہیں ایک بھی ان میں سے زندہ نہیں ہے ۔ تو پھر کس قدر سرکشی اور نافرمانی اور ۲۲۳ خدا کے حکم کی مخالفت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ سمجھا جائے۔ کیا حضرت عیسی علیہ السلام النحل : ٢٢،٢١