براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 16

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶ نصرة الحق اس کا سبب یہی ہے کہ غفلت ہی چھا گئی دُنیائے دُوں کی دل میں محبت سما گئی تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے ہر دم کے خبث وفسق سے دل پر پڑے حجاب آنکھوں سے اُن کی چھپ گیا ایماں کا آفتاب جس کو خدائے عزوجل پر یقیں نہیں اس بدنصیب شخص کا کوئی بھی دیں نہیں پر وہ سعید جو کہ نشانوں کو پاتے ہیں وہ اُس سے مل کے دل کو اُسی سے ملاتے ہیں وہ اُس کے ہو گئے ہیں اُسی سے وہ جیتے ہیں ہر دم اُسی کے ہاتھ سے اک جام پیتے ہیں جس کے کو پی لیا ہے وہ اُس کے سے مست ہیں سب دشمن اُن کے اُن کے مقابل میں پست ہیں کچھ ایسے مست ہیں وہ رُخ خوب یار سے ڈرتے کبھی نہیں ہیں وہ دشمن کے وار سے اُن سے خدا کے کام کبھی معجزانہ ہیں یہ اس لئے کہ عاشق یار یگانہ ہیں اُن کو خدا نے غیروں سے بخشی ہے امتیاز اُن کے لئے نشاں کو دکھاتا ہے کارساز جب دشمنوں کے ہاتھ سے وہ تنگ آتے ہیں جب بدشعار لوگ انہیں کچھ ستاتے ہیں جب اُن کے مارنے کیلئے چال چلتے ہیں جب اُن سے جنگ کرنے کو باہر نکلتے ہیں تب وہ خدائے پاک نشاں کو دکھاتا ہے غیروں پہ اپنا رُعب نشاں سے جماتا ہے کہتا ہے یہ تو بندۂ عالی جناب ہے مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے اُس ذاتِ پاک سے جو کوئی دل لگاتا ہے آخر وہ اُس کے رحم کو ایسا ہی پاتا ہے جن کو نشانِ حضرت باری ہوا نصیب وہ اُس جناب پاک سے ہر دم ہوئے قریب کھینچے گئے کچھ ایسے کہ دنیا سے سو گئے کچھ ایسا نور دیکھا کہ اُس کے ہی ہو گئے