براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 15
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵ نصرة الحق قصوں سے پاک ہونا کبھی کیا مجال ہے سچ جانو یہ طریق سراسر محال ہے قصوں سے کب نجات ملے ہے گناہ سے ممکن نہیں وصال خدا ایسی راہ سے مردہ سے کب امید کہ وہ زندہ کر سکے اُس سے تو خود محال کہ رہ بھی گذر سکے وہ رہ جو ذات عز وجل کو دکھاتی ہے وہ رہ جو دل کو پاک و مطہر بناتی ہے وہ رہ جو یار گم شدہ کو ڈھونڈ لاتی ہے وہ رہ جو جام پاک یقین کا پلاتی ہے وہ تازہ قدرتیں جو خدا پر دلیل ہیں وہ زندہ طاقتیں جو یقیں کی سبیل ہیں ظاہر ہے یہ کہ قصوں میں اُن کا اثر نہیں افسانہ گو کو راہِ خدا کی خبر نہیں اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی نشاں سے ہے سچ ہے کہ سب ثبوت خدائی نشاں سے ہے کوئی بتائے ہم کو کہ غیروں میں یہ کہاں قصوں کی چاشنی میں حلاوت کا کیا نشاں یہ ایسے مذہبوں میں کہاں ہے دکھائیے اور نہ گزاف قصوں پہ ہرگز نہ جائیے جب سے کہ قصے ہو گئے مقصود راہ میں آگے قدم ہے قوم کا ہردم گناہ میں تم دیکھتے ہو قوم میں عفت نہیں رہی وہ صدق وہ صفا وہ طہارت نہیں رہی مومن کے جو نشاں ہیں وہ حالت نہیں رہی۔ اس یار بے نشاں کی محبت نہیں رہی اک سیل چل رہا ہے گناہوں کا زور سے سنتے نہیں ہیں کچھ بھی معاصی کے شور سے کیوں بڑھ گئے زمیں پہ بُرے کام اس قدر کیوں ہو گئے عزیز و! یہ سب لوگ کور وکر کیوں اب تمہارے دل میں وہ صدق و صفا نہیں کیوں اس قدر ہے فسق کہ خوف و حیا نہیں کیوں زندگی کی چال سبھی فاسقانہ ہے کچھ اک نظر کرو کہ یہ کیسا زمانہ ہے