براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 392
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۹۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا بلند آواز سے اعلان کرتی ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ پھر ایک اور آیت ہے جس سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وامه صِدِيقَةٌ كَانَا يَأْكُلْنِ الطَّعَامَ الجزو نمبر 4 غ ا یعنی عیسی مسیح ایک رسول ہے۔ پہلے اُس سے سب رسول فوت ہو چکے ہیں اور ماں اس کی ایک عورت راستبا زتھی اور دونوں جب زندہ تھے روٹی کھایا کرتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام کی خدائی کا ابطال کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ پہلے اس سے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ اور پھر با وجود اس کے یہ خیال کہ مسیح زندہ آسمان پر بیٹھا ہے باطل ہے۔ پس کس طرح اس دلیل سے اس کی خدائی ثابت کی جاتی ہے کیونکہ یہ دلیل ہی فاسد ہے بلکہ حق یہ ہے کہ موت نے کسی کو نہیں چھوڑ ا سب مر گئے ۔ دوسری ۷ دلیل اس کی عبودیت پر یہ ہے کہ اس کی ماں تھی جس سے وہ پیدا ہوا اور خدا کی کوئی ماں نہیں ۔ تیسری دلیل اس کی عبودیت پر یہ ہے کہ جب وہ اور اس کی ماں زندہ تھے دونوں روٹی کھایا کرتے تھے۔ اور خدا روٹی کھانے سے پاک ہے ۔ یعنی روٹی بدل ما تخلل ہوتی ہے اور خدا اس سے بلند تر ہے کہ اس میں تحلیل پانے کی صفت ہو۔ مگر مسیح روٹی کھا تا رہتا تھا ۔ پس اگر وہ خدا ہے تو کیا خدا کا وجود بھی تحلیل پاتا رہتا ہے؟ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طبعی تحقیقات کی رو سے انسان کا بدن تین برس تک بالکل بدل جاتا ہے اور پہلے اجزاءتحلیل ہوکر دوسرے اجزاء ان کے قائم مقام پیدا ہو جاتے ہیں مگر خدا میں یہ نقص ہر گز نہیں ۔ یہ دلیل ہے جس کو خدا تعالیٰ حضرت عیسی کے انسان ہونے پر لایا ہے۔ مگر افسوس ان لوگوں پر کہ جو حضرت عیسی کو آسمان پر پہنچا کر پھر اعتقا در کھتے ہیں کہ اُن کے وجود میں انسانوں کی طرح یہ خاصیت نہیں کہ سلسلہ تحلیل کا ان میں جاری رہے اور بغیر اس کے جو بذریعہ غذا بدل ما يتخلل اُن کو ملتا ہو اُن کا وجود فنا سے بچا ہوا ہوگا ا المآئدة: ۷۶