براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 377
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۷۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم وہ لوگ ایسے شخص کے مقابل پر جو عین ضرورت کے زمانہ میں اور عین صدی کے سر پر آیا ہے اور قومی نشانوں سے اپنا دعویٰ ثابت کرتا ہے کچھ حیا اور شرم کرتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کا نام تو حکم نہیں رکھاتا مسیح موعود کے مقابل پر اپنی بات کو اور اپنے قول کو وہ ترجیح دیں۔ بلکہ مسیح موعود کا نام حکم رکھا ہے۔ پس شرط تقومی یہ تھی کہ اگر کچھ دلائل ظنیہ اُن کے ہاتھ ہوتے بھی تب بھی ایسے شخص کے مقابل پر جو دلائل شرعیہ بلقینیہ پیش کرتا ہے اور آسمانی نشان دکھلاتا ہے اپنے دلائل کو چھوڑ دیتے مگر افسوس کہ وہ لوگ یہودیوں کے قدم پر قدم رکھتے ہیں اور محض جھوٹ کی حمایت کرتے ہیں۔ میں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہو کر آیا ہوں مگر وہ میرے پر حکم بننا چاہتے ہیں۔ اب ہم اس بات کے لکھنے کے لئے متوجہ ہوتے ہیں کہ فی الواقع حضرت عیسی علیہ السلام (۲۰۵) فوت ہو گئے ہیں اور ان کی حیات کا عقیدہ قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے مخالف ہے۔ سویا در ہے کہ قرآن شریف صاف لفظوں میں بلند آواز سے فرما رہا ہے کہ عیسی اپنی طبعی موت سے فوت ہو گیا ہے جیسا کہ ایک جگہ تو اللہ تعالیٰ وعدہ کے طور پر یہ فرماتا ہے يُعِيسى إلى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ اِلَى اور دوسری آیت میں اس وعدے کے پورا ہونے کی طرف اشارہ فرماتا ہے ۔ جیسا کہ اس کا یہ قول ہے وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ الیہ سے پہلی آیت کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی ! میں تجھے طبعی موت دوں گا لہ یعنی قتل اور صلیب معلوم رہے کہ زبان عرب میں لفظ تو فی صرف موت دینے کو نہیں کہتے بلکہ طبعی موت دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ قتل و صلیب یا دیگر خارجی عوارض سے نہ ہو۔ اسی لئے صاحب کشاف نے جو علامہ لسان عرب ہے اس مقام میں تغییر انی متوفیک میں لکھا ہے کہ اِنِّي مُمِيتُكَ حَتْفَ الفک یعنی میں تجھے طبعی موت دوں گا۔ اسی بناء پر لسان العرب اور تاج العروس میں لکھا ہے۔ توفّى الميّت استيفاء مُدّته التي وفيت له و عدد ايامه و شهوره و اعوامه فی الدنیا ۔ یعنی مرنے والے کی توفی سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبیعی زندگی کے تمام دن اور مہینے اور برس پورے کئے جائیں اور یہ صورت اُسی حالت میں ہوتی ہے جب طبعی موت ہو بذریعہ قتل نہ ہو ۔ منہ آل عمران : ۵۶ النساء : ۱۵۹،۱۵۸