براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 376
روحانی خزائن جلد ۲۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کو چھوڑتے ہیں ۔ حدیث کو چھوڑتے ہیں صحابہ کے اجماع کو چھوڑتے ہیں اور اپنے باپ دادوں کی غلطی کو مضبوط پکڑتے ہیں۔ اور ایک ذرہ اُن کے پاس اس بات کا ثبوت نہیں کہ حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے۔ اور آخری زمانہ میں دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ صرف وہ حسدان کو مخالفت پر آمادہ کر رہا ہے کہ جو ہمیشہ بوجہ معاصرت خود پسند لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جایا کرتا ہے ۔ اگر بفرض محال یہ امر بھی درمیان ہوتا جو میرے دلائل کے مقابل پر حضرت عیسی کی حیات پر ان کے ۲۰۲ پاس قرآن شریف یا حدیث کی رو سے کچھ دلائل ہوتے تب بھی تقویٰ کا تقاضا یہ ہونا چاہیے تھا کہ اس کے جائیں تو لوگ دین و و و و ا ا ا ا ا ا ا ا ا باب رضی اللہ عنہ میں ہوا جس یا قتل کئے جائیں تو تم لوگ دین کو چھوڑ دو گے؟ یہ پہلا اجماع تھا جو صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ کل نبی فوت ہو چکے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ بھی داخل ہیں۔ اور یہ کہنا کہ حلث کے معنوں میں زندہ آسمان پر جانا بھی داخل ہے یہ سراسر ہٹ دھرمی ہے۔ کیونکہ عرب کی تمام لغت دیکھنے سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ زندہ آسمان پر جانے کے لئے بھی خلت کا لفظ آ سکتا ہے۔ ماسوا اس کے اس جگہ اللہ تعالی نے خلت کے معنے دوسرے فقرہ میں خود بیان فرما دیے ہیں۔ کیونکہ فرمایا۔ آفاين مات أو قتل۔ پس خلت کے معنے دو صورتوں میں محدود کر دیئے۔ ایک یہ کہ طبعی موت سے مرنا دوسرے قتل کئے جانا۔ ورنہ تشریح یوں ہونی چاہیے تھی ۔ افسران مات او قتل او رفع الى السماء مع جسمه العنصری ۔ یعنی اگر مر جائے یا قتل کیا جائے یا مع جسم آسمان پر اٹھا دیا ، جائے۔ یہ تو بلاغت کے برخلاف ہے کہ جس قدر معنوں پر خلت کا لفظ بقول مخالفین مشتمل تھا۔ ان میں سے صرف دو معنے لئے اور تیسرے کا ذکر تک نہ کیا۔ ماسوا اس کے اصل مطلب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ تھا کہ دوسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دینے کے وقت حضرت ابو بکر نے اس کی تصریح بھی کر دی تھی تو بہر حال مخالف کو ماننا پڑے گا کہ کسی طرح حضرت عیسی دنیا میں نہیں آسکتے گو بفرض محال زندہ ہوں۔ ورنہ غرض استدلال باطل ہو جائے گی۔ اور یہ صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا۔ منہ