براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 364

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۶۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم لیکن خدا تعالیٰ مجھے باپ کے لحاظ سے فارسی النسل قرار دیتا ہے اور ماں کے لحاظ سے مجھے فاطمی ٹھہراتا ہے اور وہی حق ہے جو وہ کہتا ہے۔ اور چوتھا امر جو مجھے دو پر مشتمل کرتا ہے وہ یہ ہے کہ میں جوڑا پیدا ہوا تھا۔ ایک میرے ساتھ لڑ کی تھی جو مجھ سے پہلے پیدا ہوئی تھی۔ پھر ہم اپنے پہلے مقصد کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ یہ بالکل غلط اور دھوکا کھانا ہے کہ حدیثوں میں مسیح موعود کے بارے میں نبی کا نام دیکھ کر یہ سمجھا جائے کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام ہی ہیں کیونکہ انہیں حدیثوں میں اگر چہ آنے والے عیسی کا نام نبی رکھا گیا ہے مگر اُس کے ساتھ ایک ایسی شرط لگا دی گئی ہے کہ اس شرط کے لحاظ سے ممکن ہی نہیں کہ اس نبی سے مراد حضرت عیسی اسرائیلی ہوں کیونکہ باوجود نبی نام رکھنے کے اس عیسی کو انہیں حدیثوں میں اُمتی بھی قرار دیا ہے اور جو شخص اُمتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالے گا وہ بداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسی کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہوا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اُس کو ایمان اور کمال نصیب ہو ۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت کرنا کفر ہے کیونکہ گو وہ اپنے درجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے ہی کم ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ جب تک وہ دوبارہ دنیا میں آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل نہ ہوں تب تک نعوذ باللہ وہ گمراہ اور بے دین ہیں یا وہ ناقص ہیں اور ان کی معرفت نا تمام ہے۔ پس میں اپنے مخالفوں کو یقیناً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ اُمتی ہر گز نہیں ہیں گو وہ بلکہ تمام انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر ایمان رکھتے تھے مگروہ ان ہدایتوں کے پیرو تھے جو اُن پر نازل ہوئی تھیں اور براہ راست خدا نے اُن پر تجلی فرمائی تھی۔ یہ ہر گز نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی تعلیم سے وہ نبی بنے تھے تا ۱۹۳ وہ امتی کہلاتے۔ اُن کو خدا تعالیٰ نے الگ کتابیں دی تھیں اور ان کو ہدایت تھی کہ اُن کتابوں پر عمل کریں اور کراویں جیسا کہ قرآن شریف اس پر گواہ ہے۔ پس اس بد یہی شہادت کی رو سے