براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 363
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۶۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ☆ اور منجملہ گواہوں کے مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی تھے۔ اور الزام یہ تھا کہ اس شخص نے عبدالمجید نام ایک شخص کو ڈاکٹر مارٹن کلارک کے قتل کے لئے بھیجا تھا۔ چنانچہ شہادتیں برخلاف میرے پورے طور پر گذر گئیں مگر خدا نے مجھے مقدمہ سے پہلے ہی اطلاع دی تھی کہ ایسا مقدمہ ہو گا۔ اور میں تجھے بچاؤں گا اور وہ وحی الہی قریباً ساٹھ یا ستر یا انٹی آدمی کو قبل از مقدمہ سنائی گئی تھی ۔ چنانچہ خدا نے مجھے اپنی پاک وحی کے مطابق اس جھوٹے الزام سے عزت کے ساتھ نجات دی۔ پس وہ تمام کوشش میرے پھانسی دلانے کے لئے تھی جیسا کہ یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے کی تھی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ جیسا پیلاطوس رومی نے (جو اُس نواح کا گورنر تھا جہاں حضرت مسیح تھے ) یہودیوں کو کہا تھا کہ میں اس شخص یعنی عیسی کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا جس کی وجہ سے اس کو صلیب دوں۔ ایسا ہی اس حاکم نے جس کی عدالت میں میرے پر مقدمہ قتل دائر تھا جس کا نام ڈگلس تھا اور ہمارے ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام قتل کا نہیں لگاتا۔ اور عجیب تر یہ ہے کہ جس طرح حضرت عیسی کے ساتھ ایک چور بھی صلیب دیا گیا تھا۔ جس دن میری نسبت یہ خون کا مقدمہ فیصل ہوا۔ اُسی دن اُسی عدالت میں ایک مکتی فوج کا عیسائی چور بھی پیش ہوا۔ جس نے کچھ روپیہ چرایا تھا۔ غرض میری نسبت خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ يُعِيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَی یہ ایک پیشگوئی تھی جس میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ حضرت عیسی کی طرح میرے قتل کے لئے بھی کچھ منصوبے بنائے جائیں گے۔ اور ان منصوبوں میں دشمن نا مراد رہیں گے۔ تیسرا امر جو مجھے دو پر مشتمل کرتا ہے میری قومی حالت ہے اور جیسا کہ ظاہر طور پر سنا گیا ہے میں باپ کے لحاظ سے قوم کا مغل ہوں مگر بعض دادیاں میری سادات میں سے تھیں ۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” عبدالحمید “ہونا چاہیے۔(ناشر) ۱۹۲