براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 362
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۶۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مریمی حالت سے پیدا ہوئی اس لئے خدا نے مجھے عیسی بن مریم کے نام سے پکارا۔ پس اس طرح پر میں عیسی بن مریم بن گیا۔ غرض اس جگہ مریم سے مراد وہ مریم نہیں ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی ماں تھی بلکہ خدا نے ایک روحانی مشابہت کے لحاظ سے جو مریم ام عیسی کے ساتھ مجھے حاصل تھی میرا نام براہین احمد یہ حصص سابقہ میں مریم رکھ دیا۔ پھر ایک دوسری تجلی میرے پر فرما کر اُس کو نفخ روح سے مشابہت دی۔ اور پھر جب وہ روح معرض ظہور اور بروز میں آئی تو اس رُوح کے لحاظ سے میر انام عیسی رکھا۔ پس اسی لحاظ سے مجھے عیسی بن مریم کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس جگہ اس نکتہ کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ قرآن شریف میں یہ آیت یعنی یعنى انى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ اِلَى " حضرت عیسی علیہ السلام کے حق میں تھی مگر براہین احمدیہ ص سابقہ میں یہ آیت میرے حق میں نازل کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسی پر کفر کا فتوی لگا کر ان کی نسبت یہود کا یہی عقیدہ تھا کہ ان کی روح خدا کی طرف نہیں اٹھائی گئی۔ یہی عقیده مخالفین قوم کا میرے حق میں ہے یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اس کی روح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں اٹھائی جائے گی۔ اُن کے رد کے لئے خدا تعالیٰ مجھے فرماتا ہے کہ بعد موت میں تیری روح اپنی طرف اٹھاؤں گا اور یہ جو فرمایا انی متوفیک اس میں ایک اور پیشگوئی مخفی ہے اور وہ یہ ہے کہ توفی زبان عرب میں اس قسم کی موت دینے کو کہتے ہیں جو طبعی موت ہو بذریعہ قتل یا صلیب نہ ہو۔ جیسا کہ علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں زیر آیت یا عیسی انی متوفیک یہ تفسیر لکھی ہے انی ممیتک حتف انفک ۔ یعنی میں تجھے طبعی موت 191 کے ساتھ ماروں گا۔ پس چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ میرے قتل اور صلیب کے لئے بھی وہ کوشش کی جائے گی جو حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے کی گئی۔ اس لئے اُس نے بطور پیشگوئی مجھے بھی مخاطب کر کے یہی فرمایا کہ یا عیسی انی متوفیک اس میں یہی اشارہ تھا کہ میں قتل اور صلیب سے بچاؤں گا اور ظاہر ہے کہ میرے قتل اور صلیب کے لئے بہت کوششیں ہوئیں جیسا کہ میرے قتل کے لئے علماء قوم نے فتوے دیئے اور ایک جھوٹا مقدمہ پھانسی دلانے کے لئے میرے پر بنایا گیا جس میں مستغیث پادری ڈاکٹر مارٹن کلارک تھا آل عمران : ۵۶