براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 12

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۲ نصرة الحق جاڑے کی رُت ظہور سے اُسکے پلٹ گئی عشق خدا کی آگ ہر اک دل میں اٹ گئی جتنے درخت زندہ تھے وہ سب ہوئے ہرے پھل اس قدر پڑا کہ وہ میووں سے لد گئے موجوں سے اُس کی پردے وساوس کے پھٹ گئے جو گھر اور فسق کے ٹیلے تھے کٹ گئے قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے بے اُس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے جو لوگ شک کی سردیوں سے تھر تھراتے ہیں اس آفتاب سے وہ عجب دھوپ پاتے ہیں دنیا میں جس قدر ہے مذاہب کا شور وشر سب قصہ گو ہیں نور نہیں ایک ذرہ بھر پر یہ کلام نور خدا کو دکھاتا ہے اسکی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے جس دیں کا صرف قصوں پر سارا مدار ہے وہ دیں نہیں ہے ایک فسانہ گزار ہے سچ پوچھیے تو قصوں کا کیا اعتبار ہے قصوں میں جھوٹ اور خطا بے شمار ہے ہے دیں وہی کہ صرف وہ اک قصہ گو نہیں زندہ نشانوں سے ہے دکھاتا رہ یقیں ہے دیں وہی کہ جس کا خدا آپ ہو عیاں خود اپنی قدرتوں سے دکھاوے کہ ہے کہاں جو معجزات سنتے ہو قصوں کے رنگ میں انکو تو پیش کرتے ہیں سب بحث و جنگ میں جتنے ہیں فرقے سب کا یہی کاروبار ہے قصوں میں معجزوں کا بیاں بار بار ہے پر اپنے دیں کا کچھ بھی دکھاتے نہیں نشاں گویا وہ رب ارض و سما اب ہے ناتواں گویا اب اُس میں طاقت و قدرت نہیں رہی وہ سلطنت وہ زور وہ شوکت نہیں رہی (۳) یا یہ کہ اب خدا میں وہ رحمت نہیں رہی نیت بدل گئی ہے وہ شفقت نہیں رہی ایسا گماں خطا ہے کہ وہ ذات پاک ہے ایسے گماں کی نوبت آخر ہلاک ہے