براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 13
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳ نصرة الحق سچ ہے یہی کہ ایسے مذاہب ہی مرگئے اب اُن میں کچھ نہیں ہے کہ جاں سے گذر گئے پابند ایسے دینوں کے دنیا پرست ہیں غافل ہیں ذوق یار سے دنیا میں مست ہیں مقصود اُن کا جینے سے دنیا کمانا ہے مومن نہیں ہیں وہ کہ قدم فاسقانہ ہے تم دیکھتے ہو کیسے دلوں پر ہیں اُن کے زنگ دنیا ہی ہوگئی ہے غرض ۔ دین سے آئے نگ وہ دیں ہی چیز کیا ہے کہ جو رہنما نہیں ایسا خدا ہے اُس کا کہ گویا خدا نہیں پھر اُس سے کچی راہ کی عظمت ہی کیا رہی اور خاص وجہ صفوت ملت ہی کیا رہی نور خدا کی اُس میں علامت ہی کیا رہی توحید خشک رہ گئی نعمت ہی کیا رہی لوگو ! سنو! که زنده خدا وہ خدا نہیں جس میں ہمیشہ عادت قدرت نما نہیں مرده پرست ہیں وہ جو قصہ پرست ہیں پس اس لئے وہ مورد ذل و شکست ہیں بن دیکھے دل کو دوستو پڑتی نہیں ہے کل قصوں سے کیسے پاک ہو یہ نفس پر خلل کچھ کم نہیں یہودیوں میں یہ کہانیاں پر دیکھو کیسے ہو گئے شیطاں سے ہم عناں ہر دم نشان تازہ کا محتاج ہے بشر قصوں کے معجزات کا ہوتا ہے کب اثر کیونکر ملے فسانوں سے وہ دلبر ازل گر اک نشاں ہو ملتا ہے سب زندگی کا پھل قصوں کا یہ اثر ہے کہ دل پر فساد ہے ایماں زباں پہ ۔ سینہ میں حق سے عناد ہے دنیا کی حرص و آز میں یہ دل ہیں مرگئے غفلت میں ساری عمر بسر اپنی کر گئے اے سونے والو جاگو کہ وقت بہار ہے اب دیکھو آ کے در پہ ہمارے وہ یار ہے کیا زندگی کا ذوق اگر وہ نہیں ملا لعنت ہے ایسے جینے پر گر اُس سے ہیں جدا