براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 347
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کی طرف جائے تو اس صورت میں اس مقام میں کسی دوسرے معنوں کی گنجائش ہی نہیں۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ جس زمانہ کی نسبت قرآن شریف کا یہ بیان ہے کہ عیسی مقتول اور مصلوب نہیں ہوا اسی زمانہ کی نسبت یہ بھی بیان ہے کہ اُس کا مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوا ہے پس بل کا لفظ اس جگہ اتصال زمانی کے لئے ہے نہ اتصال آنی کے لئے ۔ پس خلاصہ مفہوم آیت کا یہ ہے کہ اُس زمانہ میں حضرت عیسی علیہ السلام مقتول اور مصلوب نہیں ہوئے بلکہ طبعی موت کے بعد اُن کا رفع الی اللہ ہوا۔ جیسا کہ قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ یعنی انى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى اور تو فی طبعی موت دینے کو کہتے ہیں جیسا کہ صاحب کشاف نے اس آیت کی تفسیر میں یعنی تفسیر انی متوفیک میں لکھا ہے انی ممیتک حتف انفک قرآن شریف کی یہ آیت یعنی يُعِیسَی اِنّى مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى تمام جھگڑے کو فیصلہ کرتی ہے کیونکہ ہمارے مخالف یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع زندگی کی حالت میں ہوا اور خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ موت کے بعد رفع ہوا۔ پس افسوس ہے اُس قوم پر کہ جو نص صریح کتاب اللہ کے مخالف دعویٰ کرتے ہیں اور قرآن شریف اور تمام پہلی کتا بیں اور تمام حدیثیں بیان کر رہی ہیں کہ موت کے بعد وہی رفع ہوتا ہے جس کو رفع روحانی کہتے ہیں جو ہر ایک مومن کے لئے بعد موت ضروری ہے۔ بعض متعصب اس جگہ لا جواب ہوکر کہتے ہیں کہ آیت کو اس طرح پڑھنا چاہیے کہ یعِیسَی اِنِّی رَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُتَوَفِّيكَ - ۱۷۸ گویا خدا تعالی سے غلطی ہوگئی کہ اس نے متوفیک کو رافعک پر مقدم کر دیا اور یہ فرمایا کہ یا عیسی انی متوفیک و رافعک التی - حالانکہ کہنا یہ تھا کہ یا عیسیٰ انی رافعک التی و متوقیک ہائے افسوس! تعصب کس قدر سخت بلا ہے کہ اس کی حمایت کے لئے کتاب اللہ کی تحریف کرتے ہیں۔ یہ عمل تحریف وہی پلید عمل ہے جس سے یہودی لعنتی کہلائے اور ان کی صورتیں مسخ کی گئیں۔ اب یہ لوگ قرآن شریف کی تحریف پر آمادہ ہیں ۔ اور اگر یہ وعدہ نہ ہوتا کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُوْنَ " تو ان لوگوں سے یہ امید تھی کہ بجائے آیت ال عمران: ۵۶ ۲ الحجر : ۱۰