براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 346
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مومنوں کی طرح رفع نہیں ہوا ۔ یہودیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ کافر کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا مگر مومن مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ اور ان کے زعم میں حضرت عیسی مصلوب ہو کر نعوذ باللہ کا فر اور لعنتی ہو گئے۔ اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے نہیں گئے ۔ یہ امر تھا جس کا قرآن شریف نے فیصلہ کرنا تھا۔ پس خدا تعالیٰ نے ان آیات سے جو اوپر ذکر ہو چکی ہیں یہ فیصلہ کر دیا۔ چنانچہ آیت وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنا بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ای فیصلہ کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ رفع الی اللہ یہودیوں اور اسلام کے عقیدہ کے موافق اس موت کو کہتے ہیں جو ایمانداری کی حالت میں ہو اور روح خدا تعالیٰ کی طرف جاوے اور قتل اور صلیب کے اعتقاد سے یہودیوں کا منشا یہ تھا کہ مرنے کے وقت روح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں گئی ۔ پس یہودیوں کے دعوائے قتل اور صلیب کا یہی جواب تھا جو خدا نے دیا۔ اور دوسرے لفظوں میں ماحصل آیت کا یہ ہے کہ یہودی قتل اور صلیب کا عذر پیش کر کے کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف مرنے کے وقت رفع نہیں ہوا۔ اور خدا تعالیٰ جواب میں کہتا ہے کہ بلکہ عیسیٰ کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف مرنے کے وقت رفع ہو گیا ہے۔ پس تفسیر عبارت کی یہ ہے بل رفعه الله اليه عند موتہ ۔ چونکہ رفع الی اللہ موت کے وقت ہی ہوتا ہے بلکہ ایمان کی حالت ۱۷۷ میں جو موت ہو اُس کا نام رفع الی اللہ ہے ۔ پس گویا یہودی یہ کہتے تھے کہ مات عیسی كافرًا غير مرفوع الی اللہ اور خدا تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے بل مات مؤمنا مرفوعًا الى الله ۔ سو بل کا لفظ اس جگہ غیر محل نہیں بلکہ عین محاورہ زبان عرب کے مطابق ہے۔ یہودیوں کی یہ غلطی تھی کہ وہ خیال کرتے تھے کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت مصلوب ہو گئے ہیں اس لئے وہ ایک غلطی سے دوسری غلطی میں پڑ گئے کہ موت کے وقت ان کے رفع الی اللہ سے انکار کر دیا لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ہرگز مقتول اور مصلوب نہیں ہوئے اور موت کے وقت ان کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف ہوا ہے۔ پس اس طرز کلام میں کوئی اشکال نہیں اور بل کا لفظ ہرگز ہرگز ان معنوں کی رو سے غیر محل پر نہیں بلکہ جس حالت میں باتفاق یہود واہل اسلام رفع الی اللہ کہتے ہی اس کو ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کی روح خدا تعالیٰ ا النساء: ۱۵۹،۱۵۸