براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 345

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم دشمنوں کے لئے الزام کا سبب ہوں۔ نہ مجھے اپنے دوستوں کی نظر میں حقیر ٹھہرا اور ایسا نہ ہو کہ میرا تقویٰ مجھے مصائب میں ڈالے۔ ایسا نہ کر کہ یہی دنیا میری بڑی خوشی کی جگہ یا میرا بڑا مقصد ہو اور ایسے شخص کو مجھ پر مسلط نہ کر جو مجھ پر رحم نہ کرے۔ اے خدا جو بڑے رحم والا ہے اپنے رحم کی خاطر ایسا ہی کر ۔ تو ان سب پر رحم کرتا ہے جو تیرے رحم کے حاجت مند ہیں۔ قوله - آیت کریمہ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنا بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں یہ شبہ باقی ہے کہ لفظ بل فقره رفعه الله الیہ کو ما قتلوہ یقینا کے ساتھ ایک خاص ربط بخشتا ہے جس سے ان دونوں واقعات کا باہم اتصال سمجھا جاتا ہے۔ پس یہ بظاہر مقتضی اس بات کا ہے کہ واقع رفع کا زمانہ واقع قتل کے زمانہ کے ساتھ متحد و متصل ہو ۔ اور دونوں زمانوں میں کچھ فاصلہ نہ ہو ۔ حالانکہ حضرت کے بیان مبارک کے مطابق واقع رفع کے زمانہ اور واقع قتل کے زمانہ میں بہت فاصلہ اور ایک دور دراز مدت ہے۔ اس تقدیر میں اگر آیت قرآن شریف کی اس طرح ہوتی کہ ما قتلوه يقينا بل خلصه الله من ايديهم حيا ثُم رفعه اليه تب البته یہ معنے ظاہر ہوتے۔ اقول ۔ یہ شبہ صرف سرسری خیال سے آپ کے دل میں پیدا ہوا ہے ورنہ اگر اصل ۱۷۶ واقعات آپ کے ملحوظ خاطر ہوتے تو یہ شبہ ہرگز پیدا نہ ہوسکتا ۔ اصل بات تو یہ تھی کہ توریت کی رو سے یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والا مقتول ہو جائے تو وہ مفتری ہوتا ہے سچا نبی نہیں ہوتا ۔ اور اگر کوئی صلیب دیا جائے تو وہ لعنتی ہوتا ہے اور اس کا خدا تعالی کی طرف رفع نہیں ہوتا ہے۔ اور یہودیوں کا حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت یہ خیال تھا کهہ وہ قتل بھی کئے گئے اور صلیب بھی دیئے گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ پہلے قتل کر کے پھر صلیب پر لٹکائے گئے اور بعض کہتے ہیں کہ پہلے صلیب دے کر پھر ان کو قتل کیا گیا۔ پس ان وجوہ سے یہودی لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع روحانی کے منکر تھے اور اب تک منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ قتل کئے گئے اور صلیب دیئے گئے اس لئے ان کا خدا تعالیٰ کی طرف النساء : ۱۵۹،۱۵۸