براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 342
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم (۱۷۲) وہ خود یقین نہیں رکھتے کہ سچ سچ عیسی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں میں بعض ۱۷۳ فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے یعنی یہ عقیدہ بالکل غلط ہے کہ مسیح زندہ آسمان پر بیٹھا ہے بلکہ درحقیقت وہ فوت ہو چکا ہے اور یہ جو وعدہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح دوبارہ آئے گا اس آمدثانی سے مراد ایک ایسے آدمی کا آنا ہے کہ جو عیسی مسیح کی خوا اور خلق پر ہوگا نہ یہ کہ میسی خود آجائے گا۔ چنانچہ کتاب نیو لائف آف جیزس جلد اول صفحه ۴۱۰ مصنفہ ڈی ایف سٹر اس میں اس کے متعلق ایک عبارت ہے جس کو میں اپنی کتاب ” تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۱۲۷ میں درج کر چکا ہوں اور اس جگہ اس کے ترجمہ پر کفایت کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے:۔ اگر چہ صلیب کے وقت ہاتھ اور پاؤں دونوں پر میخیں ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے لکھتا ہے اس واسطے صلیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضاء پر زور پڑنے کے سبب تشیخ میں گرفتار ہو کر مر جاتے ہیں یا بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ پس اگر فرض بھی کر لیا جاوے کہ قریب چھ گھنٹہ صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا۔ تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بیہوشی تھی ۔ اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور افتراء کئے ہیں۔ ایک جگہ طالمود میں جو یہودیوں کی حدیثوں کی کتاب ہے لکھا ہے کہ یسوع کی لاش کو جب دفن کیا گیا تو ایک باغبان نے جس کا نام یہودا اسکر یوٹی تھا لاش کو قبر سے نکال کر ایک جگہ پانی کے روکنے کے واسطے بطور بندھ کے رکھ دیا۔ یسوع کے شاگردوں نے جب قبر کو خالی پایا تو شور مچا دیا کہ وہ مع جسم آسمان پر چلا گیا تب وہ لاش ملکہ ہیلدنیا کے روبروسب کو دکھائی گئی اور یسوع کے شاگر دسخت شرمندہ ہوئے (لعنة الله على الكاذبين) دیکھو جیو ٹش انسائیکلو پیڈیا صفحہ ۱۷۲ جلد نمبرے۔ یہ انسائیکلو پیڈیا یہودیوں کی ہے۔ منہ