براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 343

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نهایت خوشبودار دوائیاں مل کر اُسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اُس کی بیہوشی دور ہوئی۔ اس دعوے کی دلیل میں عموما یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے۔ پس ٹیٹس (حاکم وقت) سے اُن کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور ان کو فوراً اتار کر اُن کی خبر گیری کی تو ایک بالآخر تندرست ہو گیا پر باقی دو مر گئے ۔“ اور کتاب ماڈرن دوٹ اینڈ کرسچن بیلین ، کے صفحہ ۴۵۵ ۴۵۷ و ۳۴۷ میں انگریزی میں ایک عبارت ہے جس کو ہم اپنی کتاب " تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۱۳۸ میں لکھ چکے ہیں۔ ترجمہ اس کا ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے:۔ شلیر میخر اور نیز قدیم محققین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہر أموت کی سی حالت ہو گئی تھی اور قبر سے نکلنے کے بعد کچھ مدت تک اپنے حواریوں کے ساتھ پھرتا رہا اور پھر دوسری یعنی اصلی موت کے واسطے کسی علیحدگی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔ اور یسعیا نبی کی کتاب باب ۵۳ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی اپنی دعا بھی جو انجیل میں موجود ہے یہی ظاہر کر رہی ہے جیسا کہ اُس میں لکھا ہے ۔ دَعَا بِدُمُوعِ جَارِيَةٍ وعَبَرَاتٍ مُتَحَدِرَةٍ فَسُمِعَ لِتَقْوَاہ ۔ یعنی عیسی نے بہت گریہ وزاری سے دعا کی اور اُس کے آنسو اُس کے رخساروں پر پڑتے تھے پس بوجہ اُس کے تقومی کے وہ دعا منظور ہوگئی۔ ☆۔ Modern Doubt & Christian Belief P۔347,455,457