براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 338
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۳۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سمجھتے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ دونوں فرقوں کا رد کر دے مگر چونکہ جس فرقہ کی تحریک سے یہ آیات نازل ہوئی ہیں وہ وہی ہیں جو قبل از صلیب قتل کا عقیدہ رکھتے تھے اس لئے قتل کے گمان کا ازالہ پہلے کر دیا گیا اور صلیب کے خیال کا ازالہ بعد میں ۔ افسوس کہ یہ شبہات دلوں میں اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ عموماً اکثر مسلمانوں کو نہ یہودیوں کے فرقوں اور ان کے عقیدہ سے پوری واقفیت ہے اور نہ عیسائیوں کے عقیدوں کی ۱۷۰ پوری اطلاع ہے۔ لہذا میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس جگہ میں یہودیوں کی ایک پرانی کتاب میں سے جوقریباً انیس سو برس کی تالیف ہے اور اس جگہ ہمارے پاس موجود ہے ان کے اس عقیدہ کی نسبت جو حضرت مسیح کے قتل کرنے کے بارے میں ایک فرقہ ان کا رکھتا ہے بیان کر 1900 دوں ۔ اور یادر ہے کہ اس کتاب کا نام تولید وت یشوع ہے جو ایک قدیم زمانہ کی ایک عبرانی کتاب مصنفہ بعض علماء یہود ہے۔ چنانچہ اس کتاب کے صفحہ اس میں لکھا ہے۔ ” پھر وہ (یعنی یہودی لوگ) یسوع کو باہر سزا کے میدان میں لے گئے اور اس کو سنگسار کر کے مار ڈالا اور جب وہ مر گیا تب اس کو کاٹھ پر لٹکا دیا تا کہ اس کی لاش کو جانور کھا ئیں اور اس طرح مردہ کی ذلت ہو۔ اس قول کی تائید انجیل کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جہاں لکھا ہے کہ یسوع جسے تم نے قتل کر کے کاٹھ پر لٹکایا ۔ دیکھو اعمال باب ۵ آیت ۳۰ یہودی فاضل جواب تک موجود ہیں اور بمبئی اور کلکتہ میں بھی پائے جاتے ہیں عیسائیوں کے اس قول پر کہ حضرت عیسی آسمان پر چلے گئے ہیں بڑا ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے نادان ہیں جنہوں نے اصل بات کو سمجھا نہیں کیونکہ قدیم یہودیوں کا تو یہ دعویٰ تھا کہ جو شخص صلیب دیا جائے وہ بے دین ہوتا ہے اور اس کی روح آسمان پر اٹھائی نہیں جاتی ۔ اس دعوئی کے رد کرنے کے لئے عیسائیوں نے یہ بات بنائی کہ گویا حضرت عیسی مع جسم آسمان پر چلے گئے ہیں تا وہ داغ جو مصلوب ہونے سے حضرت عیسی پر لگتا تھا وہ دور کر دیں مگر اس منصو بہ میں