براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 312

۱۴۵ روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۱۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم تو اس صورت میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مذہب نہیں ٹھہر سکتا۔ بھلا ایک شخص اسلام کے ہر ایک پاک عقیدہ کے موافق اپنا عقیدہ رکھتا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مفتری سمجھتا ہے جیسا کہ بر ہمو سماج والے سمجھتے ہیں تو اس خیال کے مسلمان اس کے آگے اپنے مذہب کا ما بہ الامتیاز کیا پیش کر سکتے ہیں جو صرف قصے کہانیاں نہ ہوں بلکہ ایک ایسی مشہود ومحسوس نعمت ہو جو ان کو دی گئی اور اُن کے غیر کو نہیں دی گئی ۔ پس اے بد بخت اور بد قسمت قوم ! وہ وہی نعمت ہے جو مکالمات اور مخاطبات الہیہ ہیں جن کے ذریعہ سے علوم غیب حاصل ہوتے اور خدا کی تائیدی قدرتیں ظہور میں آتی ہیں اور خدا کی وہ نصرتیں جن پر وحی الہی کی مہر ہوتی ہے ظاہر ہوتی ہیں اور وہ لوگ اُس مُہر سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی ما بہ الامتیاز نہیں۔ اور جب تم خود مانتے ہو جو خدا دعاؤں کو سنتا ہے۔ پس اے سُست ایمانو! اور دلوں کے اندھو! جب کہ وہ سن سکتا ہے تو کیا وہ بول نہیں سکتا ؟ اور جب کہ سننے میں اس کی کوئی ہتک عزت نہیں تو پھر اپنے بندوں کے ساتھ بولنے سے کیوں اُس کی ہتک عزت ہو گئی ؟ ور نہ یہ اعتقاد رکھو کہ جیسا کہ کچھ مدت سے الہام الہی پر مہر لگ گئی ہے ویسا ہی اُسی مدت سے خدا کی شنوائی پر بھی مہر لگ گئی ہے ۔ اور اب خدا نعوذ باللہ صُمٌّ بُكْمٌ میں داخل ہے۔ کیا کوئی عظمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں ۔ پھر بعد اس کے یہ سوال ہو گا کہ کیوں نہیں بولتا۔ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گئی ہے مگر کان مرض سے محفوظ ہیں۔ جب کہ وہی بندے ہیں اور وہی خدا ہے اور تکمیل ایمان کے لئے وہی حاجتیں ہیں بلکہ اس زمانہ میں جو دلوں پر دہر بیت غالب ہوگئی ہے بولنے کی اسی قدر ضرورت تھی جس قدر سنے کی ۔ تو پھر کیا وجہ کہ سننے کی صفت تو اب تک ہے مگر بولنے کی صفت معطل ہوگئی ہے۔ افسوس کہ چودھویں صدی میں سے بھی بائیس برس گزر گئے اور ہمارے دعوے کا زمانہ