براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 308

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۰۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مارتی ہے۔ جیسا کہ دنیا میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ ہر ایک چیز کا خوف یا محبت معرفت سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اگر اندھیرے میں ایک شیر ببر تمہارے پاس کھڑا ہو اور تم کو اس کا علم نہ ہو کہ یہ شیر ہے بلکہ یہ خیال ہو کہ یہ ایک بکرا ہے تو تمہیں کچھ بھی اس کا خوف نہیں ہوگا اور جبھی کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ تو شیر ہے تو تم بے حواس ہو کر اس جگہ سے بھاگ جاؤ گے۔ ایسا ہی اگر تم ایک ہیرے کو جو ایک جنگل میں پڑا ہوا ہے جو کئی لاکھ روپیہ قیمت رکھتا ہے محض ایک پتھر کا ٹکڑا سمجھو گے تو اس کی تم کچھ بھی پروا نہیں کرو گے۔ لیکن اگر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ اس شان اور عظمت کا ہیرا ہے تب تو تم اس کی محبت میں دیوانہ ہو جاؤ گے اور جہاں تک تم سے ممکن ہوگا اس کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو گے۔ پس معلوم ہوا کہ تمام محبت اور خوف معرفت پر موقوف ہے۔ انسان اس سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا جس کی نسبت اُس کو معلوم ہو جائے کہ اُس کے اندر ایک زہریلا سانپ ہے اور نہ اُس مکان کو چھوڑ سکتا ہے جس کی نسبت اُس کو یقین ہو جائے کہ اُس کے نیچے ایک بڑا بھاری خزانہ مدفون ہے۔ اب چونکہ تمام مدار خوف اور محبت کا معرفت پر ہے اس لئے خدا تعالی کی طرف بھی پورے طور پر اس وقت انسان جھک سکتا ہے جب کہ اس کی معرفت ہو۔ اوّل اُس کے وجود کا پتہ لگے اور پھر اُس کی خوبیاں اور اُس کی کامل ۱۴۱ قدرتیں ظاہر ہوں اور اس قسم کی معرفت کب میسر آسکتی ہے بجز اس کے کہ کسی کو خدا تعالیٰ کا شرف مکالمہ اور مخاطبہ حاصل ہو اور پھر اعلام الہی سے اس بات پر یقین آجائے کہ وہ عالم الغیب ہے اور ایسا قادر ہے کہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ سو اصلی نعمت ( جس پر قوت ایمان اور اعمال صالحہ موقوف ہیں ) خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کے ذریعہ سے اوّل اُس کا پتہ لگتا ہے اور پھر اُس کی قدرتوں سے اطلاع ملتی ہے اور پھر اس اطلاع کے موافق انسان ان قدرتوں کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے۔ یہی وہ نعمت ہے جو انبیاء علیہم السلام کو دی گئی تھی اور پھر اس اُمت کو حکم ہوا کہ اس نعمت کو تم مجھ سے مانگو کہ میں تمہیں بھی دوں گا۔ پس جس کے دل میں یہ پیاس