براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 302

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۰۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم گیا اور ہر ایک حرام حلال میں اسلام پر چلے گا۔ پس اس صورت میں کیا شک ہے کہ اس حالت میں اپنے تئیں اُمتی قرار دے دے گا کیونکہ امتیوں کے سروں پر کچھ سینگ تو نہیں ہوتے جب امت ہونے کے سارے اعمال بجالائے تو امتی بن گئے۔ غرض جب عیسی علیہ السلام کو تعلیم توریت چھڑا کر امتی بنایا گیا تو پھر اس صورت میں تنقیح طلب یہ امر ہوگا کہ وہ عیسی جو یہود کے انبیاء کا خاتم الخلفاء تھا پھر اُسی کو اُمتی بنا کر محمدی دین کا خاتم الخلفاء بنایا ۔ کیا اس سے وہ حکمت الہیہ پوری ہو سکتی ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اور یہ بات عقلمندوں پر ظاہر ہے کہ بنی اسمعیل میں خدا تعالیٰ نے بمقابل بنی اسرائیل کے ۱۳۵) ایک سلسلہ قائم کر کے یہ چاہا کہ ہر ایک طور سے اس سلسلہ کو اسرائیلی سلسلہ سے مشابہ اور مماثل کرے۔ پس اُس نے اِسی ارادہ سے ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ بنایا جیسا کہ وہ فرماتا ہے اإِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً یعنی ہم نے اس رسول کو اُس رسول کی مانند بھیجا جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اور پھر آخر سلسلہ میں ضرور تھا کہ خاتم الخلفاء اس امت کا عیسی کا مثیل ہو جو عیسی کی طرح چودھویں صدی میں مثیل موسیٰ کے بعد ظاہر ہو کیونکہ موسیٰ کے سلسلہ کا آخری خلیفہ عیسی تھا جو چودہ سو برس اس کے بعد ظاہر ہوا اور پھر اسرائیلی سلسلہ کے وہ یہود تھے جنہوں نے عیسی کو قبول نہ کیا اس لئے خدا کے کلام نے یہ بھی وعدہ دیا کہ اس اُمت میں بھی آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہوگا یہودسیرت پیدا ہو جائیں گے۔ اب جب کہ ظاہر ہے کہ مثیل موسیٰ عین موسیٰ نہیں اور آخری زمانہ کے یہود سیرت مین یہود نہیں تو پھر کیا وجہ کہ آنے والا وہی عیسی اُتر آیا جو پہلے گذر چکا تھا۔ ایسا سمجھنا تو کتاب اللہ کے بر خلاف ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ بعض گروہ اس اُمت کے انبیاء بنی اسرائیل کے قدم پر چلیں گے اور بعض افراد اس اُمت کے اُن یہودیوں کے قدم پر چلیں گے جنہوں نے حضرت عیسی کو قبول نہیں کیا تھا المزمل : ١٦