براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 299

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۹۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جو ان قدرتوں کا مقابلہ کر سکے جو اُس کے کلام اور کام کے ذریعہ سے میرے پر ظاہر ہوتی ہیں وہ تمام صفتوں اور کامل قدرتوں کے ساتھ موصوف ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ جو ہر روز میرے پر ظاہر ہوتا اور اپنی قدرتیں مجھے دکھلاتا اور اپنے عمیق در عمیق بھید میرے پر ظاہر فرماتا ہے اگر اُس کے سواز مین میں یا آسمان میں کوئی اور بھی خدا ہے تو تم اُس کا ثبوت دو۔ مگر تم ہر گز ثبوت نہیں دے سکتے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں وہی ایک ہے جس نے زمین و آسمان بنائے جب کہ وہ میرے پر آفتاب کی طرح چمک رہا ہے اور اس نے مجھے کامل بصیرت بخشی اور اپنی قدرتیں دکھلا کر اور مجھے سچا علم عطا فرما کر اپنے وجود پر مجھے علم دے دیا ہے تو میں کیونکر اس کو چھوڑ سکتا ہوں۔ میرے لئے جان کا چھوڑ نا اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں اس خدا کو چھوڑوں جس نے میرے پر تجلی فرمائی۔ اندھا دشمن یونہی بکواس کرتا ہے اُس کو خدا کی خبر نہیں۔ اس کا دل مجزوم ہے اور آنکھیں بینائی سے محروم ۔ ان لوگوں کا علم صرف اس حد تک ہے کہ ظلنیات کا بت پوج رہے ہیں جو کچھ ہے اُن کے نزدیک بھی یہی بہت ہے، اس سے آگے اُن کی قسمت میں کچھ نہیں۔ اس خدا سے جو اپنی تازہ قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے یہ لوگ محض محروم ہیں اور اُس اندھے کی طرح کہ آگے قدم رکھتا ہے اور نہیں جانتا کہ آگے نشیب ہے یا فراز اور پاک زمین ہے یا نجاست ان لوگوں کی رفتار ہے۔ اور یہ لوگ نادانی سے ایک پہلو پر زور دیتے ہیں اور دوسرا پہلو فراموش کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عیسی نازل ہوگا اور وہ اُمتی بن جائے گا۔ پس ان کے قول اور خدا کے قول میں فرق یہ ہے کہ یہ لوگ تو عیسی کو اُمتی بناتے ہیں اور خدا امتی کو میسی بناتا ہے۔ پس یہ ایسا فرق نہیں تھا جس کی غلطی دور نہ ہو سکے۔ جب کہ خدا تعالیٰ کی قدرت ایک امتی کو عیسی بنا سکتی تھی نہیں سوچتے کہ جس حالت میں تم نے حضرت عیسی علیہ السلام کا نام اُمتی رکھ دیا پھر اگر خدا تعالیٰ ایک امتی کا نام عیسی رکھ دے تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ کیا حدیث امامکم منکم کے یہی معنے نہیں کہ آنے والا عیسی اے امتی لوگو ! تم میں سے ہے نہ کسی اور قوم میں سے ۔ منہ