براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 300

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۰۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۳۳) اور اس طرح پر اس اُمت کی بزرگی بنی اسرائیل پر ظاہر ہو سکتی تھی تو پھر کیا ضرور تھا کہ عیسی بن مریم کو آسمان سے اُتارا جائے اور خدا کے وعدہ کے برخلاف کیا جائے ( کہ کوئی گیا ہوا دوبارہ دنیا میں آنہیں سکتا ، حضرت عیسی بنی اسرائیل کا آخری خلیفہ تھا۔ پس ایک امتی کو میسی قرار دینا اس کے یہ معنی تھے کہ وہ بھی اس امت کا آخری خلیفہ ہوگا اور یہود اس اُمت کے اس پر بھی حملے کریں گے اور اس کو قبول نہ کریں گے ۔ مگر ایک پیغمبر کو اُمتی قرار دینے میں کونسی حکمت ہے؟ یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوئے اور پھر حضرت عیسی کو امتی بنانے کے کیا معنے ہیں؟ اور کونسی خصوصیت؟ کیا وہ اپنے پہلے ایمان سے برگشتہ ہو گئے تھے جو تمام نبیوں کے ساتھ لائے تھے تا نعوذ باللہ یہ سزادی گئی کہ زمین پر اُتار کر دوبارہ تجدید ایمان کرائی جائے مگر دوسرے نبیوں کے لئے وہی پہلا ایمان کافی رہا۔ کیا ایسی کچی باتیں اسلام سے تمسخر ہے یا نہیں؟ بات صاف تھی کہ جس طرح یہود کے سلسلہ خلافت کے خاتمہ پر عیسی آیا تھا جس کو انہوں نے رڈ کیا اور قبول نہ کیا اسی طرح مقدر تھا کہ اسلام کے سلسلہ خلافت کے آخر پر ایک خلیفہ پیدا ہو گا جس کو مسلمان رڈ کریں گے اور قبول نہ کریں گے۔ اور اس وجہ سے وہ عیسی اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ کے یعنی تم زمین برای زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی مرو گے اور زمین سے ہی نکالے جاؤ گے۔ پھر یہ کیونکر ممکن تھا کہ ایک شخص صد ہا برس تک آسمان پر زندگی بسر کرے اور خدا فرماتا ہے۔ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ کہ تمہارے قرار کی جگہ زمین ہی رہے گی۔ پھر کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسی کی قرار گاہ صد ہا برس سے آسمان ہواور خدا فرماتا ہے اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا یعنی زمین کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ ہر ایک کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور ہر ایک جسم کو اپنے قبضہ میں رکھتی ہے۔ پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسی زمین کے قبضہ سے باہر چلے گئے ۔ منہ ال عمران : ۸۲ الاعراف : ٢٦ البقرة : ٣٧ المرسلات : ۲۶