براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 291
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۹۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم وجد سے انتظار کی اُمیدیں پائی جاتی ہیں اور تمہارے بزرگ تو معصوم نہ تھے مگر اُن میں باوجوداس کے کہ اُن میں نبی اور خدا سے وجی پانے والے بھی تھے سب غلطی میں مبتلار ہے اور یہ عقدہ سر بستہ رہا کہ الیاس نبی کے دوبارہ آنے سے کوئی اور نبی مراد ہے۔ نہ یہ کہ در حقیقت الیاس ہی نازل ہوگا ۔ اور اس وقت تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے کسی نبی یا ولی کو یہ راز سر بستہ سمجھ نہ آیا کہ الیاس کے دوبارہ آنے سے مراد بیٹی نبی ہے نہ کہ در حقیقت الیاس ۔ پس یہ کوئی نئی بات نہیں کہ اس اُمت کے بعض بزرگ کسی ایک بات کے سمجھنے میں دھو کہ کھاویں۔ اور عجیب تر یہ کہ اس مسئلہ میں بھی ان بزرگوں کا اتفاق نہیں۔ بہت سے ایسے علماء گذرے ہیں کہ وہ حضرت عیسی کی وفات کے قائل ہیں۔ ان میں سے حضرت مالک رضی اللہ عنہ بھی ہیں جیسا کہ لکھتے ہیں ۔ قد اختلف في عیسی علیه السلام هل هو حتى او میت و قال مالک مات یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ۱۲۵ اختلاف ہے کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا اور مالک رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ وہ مر گیا ہے۔ اور محی الدین ابن العربی صاحب اپنی ایک کتاب میں جو ان کی آخری کتاب ہے لکھتے ہیں کہ عیسی تو آئے گا مگر بروزی طور پر یعنی کوئی اور شخص اس امت کا عیسی کی صفت پر آجائے گا صوفیوں کا یہ مقرر شدہ مسئلہ ہے کہ بعض کا ملین اس طرح پر دوبارہ دنیا میں آجاتے ہیں کہ اُن کی روحانیت کسی اور پر تجلی کرتی ہے اور اس وجہ سے وہ دوسر اشخص گویا پہلا شخص ہی ہو جاتا ہے۔ ہندوؤں میں بھی ایسا ہی اصول ہے اور ایسے آدمی کا نام وہ اوتار رکھتے ہیں۔ اور یہ خیال کہ کوئی زندہ آدمی آسمان پر چلا گیا اور یا گم ہو گیا یہ بھی ایک پرانا خیال پایا جاتا ہے جس کے پہلے وقتوں میں کچھ اور معنے تھے اور پھر جاہلوں نے سمجھ لیا کہ در حقیقت کوئی شخص مع جسم آسمان پر چلا جاتا ہے اور پھر آتا ہے۔ سید احمد صاحب بریلوی کی نسبت بھی کچھ ایسے ہی خیالات اُن کے گروہ کے لوگوں میں آج تک شائع ہیں۔ گویا وہ بھی حضرت عیسی کی طرح پھر آئیں گے۔ اور اگر چہ وہ پہلی آمد میں حضرت عیسی کی طرح ناکام رہے مگر دوسری مرتبہ خوب تلوار چلائیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ بڑے بڑے دعوے کر کے پھر نا کام اور نامراد دنیا سے چلے گئے اُن کی پردہ پوشی کے لئے یہ باتیں بنائی گئیں۔