براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 285

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۸۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اثر صحابہ کے دل پر کیا کہ وہ مدینہ کے بازاروں میں یہ آیت پڑھتے پھرتے تھے گویا اُسی دن وہ نازل ہوئی تھی ۔ اور اسلام میں یہ اجماع تمام اجماعوں سے پہلا تھا کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں۔ مگر اے مولوی صاحب !! آپ کو صحابہ کے اس اجماع سے کیا غرض۔ آپ کا مذہب تو تعصب ہے نہ کہ اسلام ۔ ہیں ۔ مذہب اسلام ایسے باطل عقیدوں سے دن بدن تباہ ہوتا جاتا ہے مگر آپ لوگ خوش ۱۳۰ رونق دیں عقا ئدت کرده دشمنان شاد و یار آزرده معلوم ہوتا ہے کہ اس اجماع سے پہلے جو تمام انبیاء علیہم السلام کی وفات پر ہوا بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا وہ ابھی اس عقیدہ سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں اور اسی وجہ سے صدیق رضی اللہ عنہ کو اس آیت کے سنانے کی ضرورت پڑی اور اس آیت کے سننے کے بعد سب نے یقین کر لیا کہ تمام گذشتہ لوگ داخل قبور ہو چکے ہیں اسی وجہ سے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ چند شعر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرثیہ میں بنائے جس میں اُس نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہیں ۔ كنت السواد لناظري فعمی علیک الناظر من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر (ترجمہ) تو میری آنکھوں کی پتلی تھا پس میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا۔ اب بعد تیرے جو شخص چاہے مرے ( عیسی ہو یا موسیٰ ہو ) مجھے تو تیرے ہی مرنے کا خوف تھا۔ جزا اہ اللہ خیر الجزاء محبت اسی کا نام ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اس امت پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کا شکر نہیں ہوسکتا اگر وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسجد نبوی میں اکٹھے کر کے یہ آیت نہ سناتے کہ تمام گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تو یہ امت ہلاک ہو جاتی ۔ کیونکہ ایسی صورت میں اس زمانے کے مفسد علماء یہی کہتے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسی زندہ ہیں ۔ مگر اب صدیق اکبر کی آیت ممدوحہ پیش کرنے سے اس بات پر کل صحابہ کا اجماع ہو چکا کہ کل گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں بلکہ