براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 284
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۸۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے مطابق گواہی دی تو اب بھی نہ ماننا۔ بتلاؤ یہ ایمانداری ہے یا بے ایمانی ۔ پھر ایسے آدمی پر افسوس کیا کریں کہ وہ ہمارے نشانوں کو نہیں مانتا جب کہ اس نے نہ خدا کے قول کو مانا اور نہ 19 رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کو قبول کیا اور نہ چاہا کہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے اپنی غلطی کو چھوڑ دے۔ تو ایسا آدمی اگر میرے پر افترا کرے تو مجھے کیوں افسوس کرنا چاہیے۔ ایک کی غلطی دوسرے کے لئے سند نہیں ہو سکتی۔ اگر فیج اعوج کے زمانہ میں ایسا خیال دلوں میں ہو گیا تھا کہ حضرت عیسی زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں تو وہ قابلِ سند نہیں ہے۔ خیر القرون کے زمانہ میں اس خیال کا نام و نشان نہ تھا ورنہ صحابہ رضی اللہ عنہم اس بات پر کیوں راضی ہو جاتے کہ سب انبیاء علیہم السلام فوت ہو چکے ہیں۔ اسلام میں سب سے پہلا اجماع یہی تھا کہ تمام نبی فوت ہو گئے ہیں کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو بعض صحابہ کا یہ بھی خیال تھا کہ آپ فوت نہیں ہوئے اور پھر دنیا میں واپس آئیں گے اور منافقوں کی ناک اور کان کاٹیں گے۔ تو اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سب کو مسجد نبوی میں جمع کیا اور یہ آیت پڑھی مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی ہیں اور تمام انبیاء گذشتہ پہلے ان سے فوت ہو چکے ہیں۔ تب صحابہ جو سب کے سب موجود تھے رضی اللہ عنہم سمجھ گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے شک فوت ہو گئے اور انہوں نے یقین کر لیا کہ کوئی نبی بھی زندہ نہیں۔ اور کسی نے اعتراض نہ کیا کہ حضرت عیسی اس آیت کے مفہوم سے باہر ہیں اور وہ اب تک زندہ ہیں۔ اور کیا ممکن تھا کہ عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر راضی ہو سکتے کہ ان کا نبی تو چھوٹی سی عمر میں فوت ہو گیا اور عیسی چھ سنو برس سے زندہ چلا آتا ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا بلکہ وہ تو اس خیال سے زندہ ہی مر جاتے ہیں اسی وجہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سب کے سامنے یہ آیت پڑھ کر ان کو تسلی دی ما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ے اور اس آیت نے ایسا ۲۰۱ آل عمران : ۱۴۵