براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 270
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۷۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم یعنی اخیر دسمبر ۱۹۰۳ء کے پرچہ میں صاف لفظوں میں زلزلہ کی پیشگوئی موجود ہے۔ اور پھر مواہب الرحمن مطبوعہ ۱۹۰۲ء میں بھی یہی زلزلہ کی پیشگوئی موجود ہے۔ اور پھر رسالہ آمین مطبوعہ ۱۹۰۱ء میں بھی یہی زلزلہ کی پیشگوئی موجود ہے۔ پھر باوجود اس قدر تواتر کے کیونکر کوئی عظمند خیال کر سکتا ہے کہ ہم اس پیشگوئی سے بالکل بے خبر تھے۔ ہاں میں جیسا کہ میرا مذہب ہے بار بار یہ بھی کہہ چکا ہوں کہ پیشگوئیوں میں قطعی طور پر یہ دعوی نہیں ہوسکتا کہ ضرور ان کا ایک ہی خاص پہلو پر ظہور ہوگا ممکن ہے کہ خدائے علیم و حکیم کوئی دوسرا پہلو ان کے ظہور کے لئے اختیار کرے جس میں وہی عظمت اور قوت اور ہولناک صورت پائی جائے جس پر پیشگوئی دلالت کرتی ہو۔ پھر جب کہ مجھ کو پیشگوئی عفت الديار محلها و مقامها کی عظمت اور شدت پر پورا پورا یقین تھا اور میں اس کو پورے ایمان سے خدا تعالیٰ کا کلام سمجھتا تھا اور اس کے ظہور نے مجھے پر کھول دیا تھا کہ جیسا کہ پیشگوئی کے ظاہری الفاظ تھے اسی طرح وہ وقوع میں بھی آگئی تو کیا وہ وقت نہیں تھا کہ بنی نوع کے لئے میری ہمدردی جوش مارتی اور میں کوشش کرتا کہ آئندہ زلزلہ سے بچنے کے لئے لوگ تو بہ اور استغفار اور کسی احسن انتظام کی طرف متوجہ ہوں ۔ کیا میں نے یہ بُرا کام کیا کہ جس بلا کا مجھے یقین دیا گیا تھا اس بلا سے بچنے کے لئے میں نے لوگوں کو مطلع کر دیا۔ اور کیا انسان میں یہ طبعی امر نہیں ہے کہ کسی بلا پر اطلاع پا کر بنی نوع کی ہمدردی کے لئے اس کا دل جوش مارتا ہے۔ ہاں بعض قصاب طبع لوگ ہوتے ہیں کہ ان کو دوسرے کے درد اور مصیبت کی کچھ بھی پروا نہیں ہوتی۔ سو میں ایسے لوگوں کو انسان نہیں سمجھتا۔ قولہ ۔ لہذا اس سے ( یعنی مجھ سے ) یہ جماعت عمل میں آئی جو اپنے تئیں ایک بڑے گناہ کا مرتکب مان لیا جس سے اپنے اصلی دعوی نبوت کی جڑ کاٹ دی۔ اقول ۔ یہودیوں کی طرح آپ جس قدر چاہیں تحریف کریں ہم آپ کو کیا کہہ سکتے ہیں