براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 262
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم رہتے تھے اس ملک میں تو شاذ و نادر کوئی ایسا سال گذرتا ہوگا کہ زلزلہ نہ آتا ہو۔ تاریخ سے ۱۰۰ ثابت ہے کہ اس ملک میں ہمیشہ زلزلے آتے رہے ہیں اور سخت زلزلے بھی آتے رہے ہیں حضرت عیسی نے اپنی زندگی میں جب وہ اُس ملک میں تھے اور ابھی کشمیر کی طرف سفر نہیں کیا تھا کئی زلزلے خود دیکھے ہوں گے۔ پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان معمولی حوادث کا نام پیشگوئی کیوں رکھا جائے۔ پس جس تمسخر کو آپ نے میری پیشگوئیوں میں تلاش کرنا چاہا اور نا مرادر ہے اگر آپ حضرت عیسیٰ کی ان پیشگوئیوں میں تلاش کرتے تو بغیر کسی محنت کے فی الفور آپ کو مل جاتا۔ اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ حضرت عیسی نے زلزلہ کا نام زلزلہ ہی رکھا کوئی تاویل نہیں کی۔ کیا آپ مجھے حضرت عیسی کا کوئی ایسا فقرہ دکھلا سکتے ہیں جس میں لکھا ہو کہ ان پیشگوئیوں میں زلزلے سے مراد در حقیقت زلزلہ ہے کوئی استعارہ نہیں ۔ اور بغیر حضرت عیسی کی حملہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت عیسی کا زندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے بلکہ وہ صلیب سے بیچ کر پوشیدہ طور پر ایران اور افغانستان کا سیر کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور ایک لمبی عمر وہاں بسر کی ۔ آخر فوت ہو کر سری نگر محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور اب تک آپ کی وہیں قبر ہے۔ يُزَارُ وَ يُتَبَرَّكُ بِہ اور صلیب پر آپ فوت نہیں ہوئے ۔ کچھ زخم بدن پر آئے تھے جن کا مرہم عیسی کے ساتھ علاج کیا گیا تھا۔ اور اس مرہم کا نام اسی وجہ سے مرہم عیسی رکھا گیا ۔ منہ جس طرح ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کی لڑائی میں مجروح ہوئے تھے اور کئی زخم تلواروں کے پیشانی مبارک پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آئے تھے اور سرتا پا خون سے آلود ہو گئے تھے اسی طرح بلکہ اس سے بہت کم حضرت عیسی کو صلیب پر زخم آئے تھے پھر نہ معلوم نادان لوگوں کو حضرت عیسی سے کیسی مشرکانہ محبت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم تو قبول کر لیتے ہیں مگر حضرت عیسی کا مجروح اور زخمی ہونا ان کی شان سے بلند تر سمجھتے ہیں اور شور ڈالتے ہیں کہ ان کی نسبت ایسا کیوں کہتے ہو اور ان کو تمام دنیا سے الگ ایک خصوصیت دینا چاہتے ہیں۔ وہی آسمان پر چڑھ کر پھر زمین پر اترنے والے۔ وہی اس قدر لمبی عمر پانے والے ۔ مگر خدا نے ان کو پیدائش میں بھی اکیلا نہیں رکھا بلکہ کئی حقیقی بھائی اور کئی حقیقی بہنیں ان کی ایک ہی ماں سے تھیں۔ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اکیلے تھے۔ نہ کوئی دوسرا بھائی تھانہ بہن۔ منہ