براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 263
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سند کے صرف آپ کا قول کیونکر قبول کیا جائے کیونکہ حضرت عیسی کی پیشگوئیوں پر نظر ڈال کر ثابت ہو چکا ہے کہ وہ سب کی سب استعارہ کے رنگ میں ہیں جیسا کہ حضرت عیسی نے دعوی کیا تھا کہ میں یہود کا بادشاہ ہوں اور اس دعوی پر روم کی گورنمنٹ میں تشہیری ہوئی کہ یہودتو سلطنت رومیہ کے ماتحت ہیں مگر یہ شخص دعویٰ کرتا ہے کہ یہود میری رعایا ہیں اور میں ان کا بادشاہ ہوں۔ اس پر جب گورنمنٹ رومی نے جواب طلب کیا تو آپ نے فرمایا کہ میری بادشاہی اس جہان کی نہیں بلکہ بادشاہی سے مراد آسمان کی بادشاہت ہے۔ اب دیکھئے کہ ابتدا میں خود حضرت عیسی کا خیال تھا کہ مجھے زمین کی بادشاہت ملے گی اور اسی خیال پر ہتھیار بھی خریدے گئے تھے مگر آخر کا ر وہ آسمان کی بادشاہت نکلی ۔ پس کیا بعید ہے کہ زلزلہ سے مراد بھی اُن کی کوئی آسمانی امر ہی ہو۔ ورنہ زمین شام میں تو ہمیشہ زلزلے آتے ہی ہیں ایسی زمین کے متعلق زلزلہ کی پیشگوئی کرنا ایک مخالف کی نظر میں تمسخر کی جگہ ہے ۔ ایسا ہی حضرت عیسی نے فرمایا تھا کہ میرے باراں حواری باراں تختوں پر بہشت میں 101 بیٹھیں گے۔ یہ پیشگوئی بھی انجیل میں موجود ہے مگر ایک ان حواریوں میں سے یعنی یہودا اسکر یولی مرتد ہو کر مر گیا۔ اب بتلاؤ کہ باراں تختوں کی پیشگوئی کس طرح صحیح ہو سکتی ہے اگر کوئی جوڑ تو ڑ آپ کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی سمجھا دیں ہم ممنون ہوں گے یہاں تو کسی استعارہ کی بھی کچھ پیش نہیں جاتی۔ ایسا ہی حضرت عیسی نے فرمایا تھا کہ اس زمانہ کے لوگ ابھی گذر نہیں جائیں گے کہ میں واپس آؤں گا۔ پس جو لوگ ان کو آسمان پر چڑھائے بیٹھے ہیں کیا نصاریٰ اور کیا مسلمان۔ اس بات کا جواب اُن کے ذمہ ہے کہ اُنیس صدیاں تو گزر گئیں مگر ابھی تک حضرت عیسی واپس نہیں آئے اور اُنیش صدیوں تک جو لوگ عمر میں پوری کر چکے تھے وہ سب خاک میں مل گئے لیکن اب تک کسی نے حضرت عیسی کو آسمان سے اُترتے نہ دیکھا۔ پھر وہ وعدہ کہاں گیا کہ اس زمانہ کے لوگ ابھی زندہ ہوں گے کہ میں واپس آجاؤں گا۔ غرض ایسی پیشگوئیوں پر جس نے ناز کرنا ہے بیشک کرے ہم تو قرآن شریف