براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 253

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۵۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم یعنی کا فر پوچھتے ہیں کہ یہ دعوی پورا کب ہوگا اگر تم سچے ہوتو تاریخ عذاب بتاؤ۔ ان کو کہہ دے مجھے کوئی تاریخ معلوم نہیں یہ علم خدا کو ہے۔ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔ اور پھر کافروں نے مکررا عذاب کی تاریخ پوچھی تو یہ جواب ملا ۔ وَاِنْ اَدْرِى أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيد یعنی ان کو کہہ دے کہ میں نہیں جانتا کہ عذاب قریب ہے یا ڈور ہے ۔ اب اے سننے والو! یا درکھو کہ یہ بات سچ ہے اور بالکل سچ ہے اور اس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں کبھی ظاہر پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی استعارہ کے رنگ میں ۔ پس کسی نبی یا رسول کو یہ حوصلہ نہیں کہ ہر جگہ اور ہر پیشگوئی میں یہ دعویٰ کر دے کہ اس طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوگی ۔ ہاں البتہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں اس امر کا دعویٰ کرنا نبی کا حق ہے کہ وہ پیشگوئی جس کو وہ بیان کرتا ہے خارق عادت ہے یا انسانی علم سے وراء الوراء ہے ۔ اگر پنجاب میں ہر صدی میں بھی ایسا زلزلہ آ جایا کرتا جیسا کہ ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کو آیا تو اس صورت میں بھی یہ پیشگوئی کچھ بھی چیز نہ ہوتی ۔ کیونکہ تمام لوگ اس بات کے کہنے کا حق رکھتے تھے کہ ہمیشہ پنجاب میں ایسے زلزلے آتے ہیں یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ لیکن جب کہ گذشتہ زلزلہ اس خارق عادت طور سے ظاہر ہوا جس خارق عادت طور سے پیشگوئی نے بیان کیا تھا تو پھر سب اعتراض فضول ہو گئے ۔ ایسا ہی آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیشگوئی نہیں اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اُس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں مجھے خدا تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ آفت جس کا نام اس نے زلزلہ رکھا ہے نمونہ قیامت ہوگا اور پہلے سے بڑھ کر اس کا ظہور ہو گا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس آئندہ کی پیشگوئی میں بھی پہلی پیشگوئی کی طرح بار بار زلزلہ کا لفظ ہی آیا ہے اور کوئی لفظ نہیں آیا۔ اور ظاہری معنوں کا به نسبت تا ویلی معنوں کے زیادہ حق ہے لیکن جیسا کہ تمام انبیاء ادب ربوبیت اور ادب وسعت علم باری ملحوظ رکھتے رہے ہیں اُس ادب کے لحاظ سے اور سنت اللہ کو مدنظر رکھ کر یہ الانبياء : ١١٠