براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 245

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۴۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نبی کو کبھی ایسی وحی ہوئی جس کے الفاظ حر فأحرفا وہی ہوں جو اس نبی سے پہلے کسی آدمی کی زبان سے نکل چکے ہوں۔ اقول ۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں ایسی وحی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تھی ۔ یعنی فتبارک اللہ احسن الخالقین ۔ یہ وہ فقرہ ہے جو عبد اللہ ابن ابی سرح کے منہ سے نکلا تھا اور بعینہ یہی وحی الہی ہوئی تھی۔ اور اسی ابتلا سے عبداللہ بدقسمت مرتد ہو گیا تھا۔ پس ایسا اعتراض عبد اللہ مرتد کے خیالات کی پیروی ہے جس سے پر ہیز کرنا چاہیے تھا۔ اور یہ فقره یعنی عفت الديار محلها و مقامها یه لبید رضی اللہ عنہ جو صحابی تھے اُن کے شعر کا پہلا (۸۵) مصرع ہے۔ پورا شعر یہ ہے۔ عفت الديار محلّها و مقامها بمنى تابد غولها فرجامها اس کے یہ معنے ہیں کہ میرے پیاروں کے گھر منہدم ہو گئے ۔ ان عمارتوں کا نام ونشان نہ رہا جو عارضی سکونت کی عمارتیں تھیں اور نہ وہ عمارتیں رہیں جو مستقل سکونت کی عمارتیں تھیں۔ دونوں قسم کی عمارتیں نابود ہو گئیں اور وہ عمارتیں مٹی میں واقع تھیں جو نجد کی زمین میں ہے۔ منی دو ہیں۔ ایک مٹی مکہ اور ایک مٹی نجد ۔ اس جگہ منی نجد مراد ہے۔ اور پھر شاعر کہتا ہے کہ اُس سرزمین کے دو شہر جن میں سے ایک کا نام غول تھا اور دوسرے کا نام رجام تھا یہ ایسے منہدم ہو کرنا بود ہو گئے اور زمین سے ہموار ہو گئے کہ اب ان شہروں کی جگہ ایک جنگل پڑا ہے جہاں وحشی جانور ہرن وغیرہ رہتے ہیں۔ یہ معنی اس عربی لفظ کے ہیں یعنی تابد کے جو شعر میں موجود ہے تابد کا لفظ او ابد سے لیا گیا ہے اور آواہد جنگلی جانوروں ہرن وغیرہ کو کہتے ہیں ۔ اور آواہد کا لفظ ابد سے لیا گیا ہے۔ اس کے معنے ہیں ہمیشہ جینے والے ۔ چونکہ ہرن وغیرہ اکثر اپنی موت سے نہیں مرتے بلکہ شکار کئے جاتے ہیں اور دوسرے کے ذریعہ سے ان کی موت آتی ہے اس لئے ان کا نام او ابد رکھا گیا۔ قوله - اگر انسان کے قول سے خدا کا بھی تو ارد ہو سکتا ہے تو خدا کے قول اور