براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 246

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۴۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم بندے کے قول میں فرق کیا ہوا؟ اقول ۔ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ قرآن شریف ان معنوں سے معجزہ ہے کہ کسی انسان کی عبارت کو قرآن شریف کی ایک لمبی عبارت کے ساتھ جو دس آیت سے کم نہ ہو تو ارد نہیں ہو سکتا اور اس قدر عبارت قرآن شریف کی اس درجہ کی فصاحت بلاغت اور دیگر معارف اور حقائق اپنے اندر رکھتی ہے جو انسانی طاقتیں اس کی مثل پیش نہیں کر سکتیں اس لئے عبارت قرآنی اس شرط کے ساتھ کہ دس آیت کی مقدار سے کم نہ ہو معجزہ ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اس کی تصریح موجود ہے مگر ایک فقرہ جو زیادہ سے زیادہ ایک آیت یا دو آیت کے برابر ہو اس قدر فقرہ میں انسان کے کلام کا خدا کے کلام سے بظاہر تو ارد ہوسکتا ہے مگر پھر بھی اندرونی طور پر خدا کی کلام میں بعض پوشیدہ معارف اور ایک قسم کا نور ہوتا ہے اور نیز معجزہ میں سے ایک حصہ اس میں مخفی ہوتا ہے۔ جیسا کہ انسان اور ہرن میں ما بہ الامتیاز مجموعی حالت پر نظر ڈال کر ظاہر ہے لیکن تاہم ہرن کی آنکھ انسان کی آنکھ سے مشابہ ہے مگر پھر بھی انسان کی آنکھ میں بعض وہ قوتیں ہیں جو ہرن کی آنکھ میں ہرگز نہیں۔ قوله ـ جب عفت الديار محلّها و مقامها کا الہام شائع ہوا تب اُس کے ذیل میں لکھا گیا تھا کہ متعلق طاعون ۔ لیکن اب بتایا جاتا ہے کہ زلزلہ کے متعلق ہے۔ اقول ۔ عفت الدیار کے عذاب کا طاعون سے تعلق رکھنا اس کو عین طاعون نہیں بنا سکتا ماسوا اس کے یہ قول کہ عفت الدیار کے فقرہ کو طاعون سے تعلق ہے یہ تو انسان کی عبارت ہے۔ اعتراض تب ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کی وحی میں یہ لفظ ہوتا ۔ خدا تعالی کی وحی تو صاف کہتی ہے کہ یہ زلزلہ کے متعلق ہے۔ دیکھو وہ الہام جو اُسی اخبار احکام میں دسمبر ۱۹۰۳ء کے اخیر میں شائع ہوا جس کی یہ عبارت ہے کہ زلزلہ کا دھکا۔ پھر پانچ ماہ بعد اسی پہلے الہام کی اسی اخبار کے پر چه ۳۱ رمئی ۱۹۰۴ء میں دوسرے الہام نے یہ تصریح کی کہ عفت الديار محلها و مقامها - افسوس یہ کیسا زمانہ آ گیا کہ دو جگہ ایک ہی اخبار میں خدا کا کلام موجود ہے