براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 238
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم بلا ہے جو خدائے تعالیٰ کے ایک خاص رحم کی محتاج ہے اور جب خدا تعالیٰ کسی کو اس بلا سے نجات دینا چاہتا ہے تو اپنی عظمت اور ہیبت اور جبروت کی ایسی بجاتی اس پر کرتا ہے جس سے شہوات نفسانیہ محرمہ پارہ پارہ ہو جاتی ہیں اور پھر جمالی رنگ میں اپنی لطیف محبت کا ذوق (۷۸) اس کے دل میں ڈالتا ہے اور جس طرح شیر خوار بچہ دودھ چھوڑنے کے بعد صرف ایک رات تلخی میں گذارتا ہے بعد اس کے اس دودھ کو ایسا فراموش کر دیتا ہے کہ چھاتیوں کے سامنے بھی اگر اس کے منہ کو رکھا جائے تب بھی دودھ پینے سے نفرت کرتا ہے۔ یہی نفرت شہوات محرمہ نفسانیہ سے اُس راستباز کو ہو جاتی ہے جس کو نفسانی دودھ چھڑا کر ایک روحانی غذا اس کے عوض میں دی جاتی ہے۔ پھر چوتھی حالت کے بعد پانچویں حالت ہے جس کے مفاسد سے نہایت سخت اور شدید محبت نفس امارہ کو ہے کیونکہ اس مرتبہ پر صرف ایک لڑائی باقی رہ جاتی ہے اور وہ وقت قریب آجاتا ہے کہ حضرت عزت جل شانہ کے فرشتے اس وجود کی تمام آبادی کو فتح کرلیں اور اُس پر اپنا پورا تصرف اور دخل کر لیں اور تمام نفسانی سلسلہ کو درہم برہم کر دیں۔ اور نفسانی قومی کے قریہ کو ویران کر دیں اور اس کے نمبرداروں کو ذلیل اور پست کر کے دکھلا دیں اور پہلی سلطنت پر ایک تباہی ڈال دیں اور انقلاب سلطنت پر ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ اور یہ مومن کے لئے ایک آخری امتحان اور آخری جنگ ہے جس پر اُس کے تمام مراتب سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور اس کا سلسلہ ترقیات جو کسب اور کوشش سے ہے انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ اور انسانی کوششیں اپنے اخیر نقطہ تک منزل طے کر لیتی ہیں۔ پھر بعد اس کے صرف موہبت اور فضل کا کام باقی رہ جاتا ہے جو خلق آخر کے متعلق ہے۔ اور یہ پانچویں حالت چوتھی حالت سے مشکل تر ہے کیونکہ چوتھی حالت میں تو صرف مومن کا کام یہ ہے کہ شہوات محرمہ نفسانیہ کو ترک کرے مگر پانچویں حالت میں مومن کا کام یہ ہے کہ نفس کو بھی ترک کر دے اور اس کو خدا تعالیٰ کی امانت سمجھ کر خدا تعالیٰ کی طرف واپس کرے اور خدا کے کاموں میں اپنے نفس کو وقف کر کے النمل: ۳۵